1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بوڑھوں کی نظر کرم بھی فیس بک پر

ایسے عمر رسیدہ افراد جو انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں، انہیں ’سلور سرفر‘ کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جرمنی میں ایسے عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔

default

جرمن ٹیلی وژن اداروں ARD اور ZDF  کی ایک تحقیق کے مطابق بزرگ جرمن شہری سوشل نیٹ ورکس کا استعمال صرف اور صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سے گفتگو کر سکیں۔

پرانے کمپیوٹر کو تیز رفتار بنانے کا حل کلاؤس شمولز نے نکالا ہوا ہے۔ ان کے پاس تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن ڈی ایس ایل موجود ہے۔ اکہتر سالہ شمو لز فیس بک اور سکائپ سمیت ہر وہ مشہور ویب سائٹ استعمال کرتے ہیں، جس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ پینسٹھ سال کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا لیپ ٹاپ خریدا تھا اور تب انہیں کمپیوٹر کی دنیا کا بالکل علم نہیں تھا۔ شمولز کو کمپیوٹر کے استعمال کا خیال کسیے آیا، اس بارے میں وہ کہتے ہیں، ’’اپنے ذاتی مفاد کے لیے، میں نے سوچا کہ اگر میں تیرنا نہیں سیکھوں گا تو بہت پیچھے رہ جاؤں گا۔ اگر میں نے کمپیوٹر کا استعمال نہ سیکھا، تو میرا رابطہ میرے پوتوں اور نوجوانوں سے ختم ہو جائے گا کیونکہ کمپیوٹر نوجوانوں کی زبان ہے۔‘‘

Senioren sitzen vor einem Laptop

جرمنی کے عمر رسیدہ افراد میں انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے

شمولز کے مطابق وہ اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے کہ ان کے پوتے انہیں فون کریں اور ان کا حال دریافت کریں بلکہ وہ خود فعال رہنا چاہتے تھے۔  ڈیجیٹل میڈیا کے پروفیسر ہینڈرک شپیک عمر رسیدہ افراد میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’بزرگ شہریوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے بھی نہیں۔ اگر یہ بچوں، پوتوں  یا پھر نوجوانوں کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہتے ہیں، تو ان کو آن لائن میڈیا کا بنیادی استعمال آنا چاہیے۔‘‘

جرمن شہر کالسروہے کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر شپیک کا کہنا ہے کہ نئی نسل ہمیشہ ایک جگہ رہنا پسند نہیں کرتی۔ نوجوان والدین کے گھر سے جلد ہی کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ وہ ہمیشہ ایک ہی جگہ کام کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اپنے دوستوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا واحد راستہ صرف یہی ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔‘‘

Hendrik Speck

ڈیجیٹل میڈیا کے پروفیسر ہینڈرک شپیک

جرمنی کے عمر رسیدہ افراد میں انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ سن 2010 کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس تک ساٹھ سال سے زائد عمر کے 25 فیصد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے تھے۔ نئی تحقیق کے مطابق اب ان کی تعداد بڑھ کر پینتیس فیصد ہو چکی ہے۔ پروفیسر شپیک کے مطابق ایک عرصے سے عمر رسیدہ افراد کے لیے خصوصی ویب سائٹس بھی تیار کی جا رہی ہیں، جن میں herbstzeit.de اور platinnetz.de قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح جرمنی میں ایک اور ویب سائٹ Stayfriends.de ایک عرصے سے عمر رسیدہ افراد کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ اس ویب سائٹ پر اپنے پرانے دوستوں اور کلاس فیلوز کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس ویب سائٹ کے ممبران کی تعداد بارہ ملین ہے، جن میں سے دو ملین سے زائد افراد کی عمریں 50 سال سے زائد ہیں۔ اس ویب سائٹ کے شریک بانی مائیکل لنڈن برگ کے مطابق ویب سائٹ استعمال کرنے والے عمر رسیدہ افراد کے گروپ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کلاؤس شمولز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ان کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ وہ ایک عرصے تک اپنے بچوں سے نہیں مل پائے تھے لیکن انٹر نیٹ کی وجہ سے انہیں اپنے بچے واپس مل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے شمولز کے ایک خاتون کے ساتھ تعلقات تھے، جن کے نتیجے میں ان کی اس خاتون سے دو بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں۔ شمولز کا اپنی ان بیٹیوں سے رابطہ کئی عشروں بعد انٹر نیٹ کے ذریعے ممکن ہوا۔

رپورٹ:امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM