1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بون کانفرنس کے موقع پر پاکستانیوں کا احتجاج

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جرمنی کے سابق دارالحکومت بون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر پاکستانی کمیونٹی نے اپنے ملک میں ڈرون حملوں اور حالیہ نیٹو حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔

default

افغان سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو پاکستانی فوجی چیک پوسٹوں پر نیٹو حملوں کے خلاف پاکستان نے بطور احتجاج شرکت نہیں کی۔ تاہم جرمنی میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے اس موقع پر ان حملوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مظاہرین ڈرون حملوں کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے

مظاہرین ڈرون حملوں کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے

احتجاجی مظاہرے میں پاکستانی طلبہ، خواتین اور بچوں کے علاوہ بزرگ بھی شریک تھے۔ بون میں موجود پاکستانی طلبہ کی طرف سے ترتیب دیےجانے والے اس مظاہرے میں امریکہ کی طرف سے مبینہ ڈرون حملوں اور حالیہ نیٹو حملوں میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا گیا۔

اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جرمنی کے دیگر شہروں سے بھی لوگ بون پہنچے۔ مظاہرین نے بڑی تعداد میں پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی بڑی تعداد میں اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں اور نیٹو حملوں کے خلاف مذمتی نعرے درج تھے۔

مظاہرے میں شرکت کے لیے دیگر شہروں سے بھی لوگ بون پہنچے

مظاہرے میں شرکت کے لیے دیگر شہروں سے بھی لوگ بون پہنچے

اس موقع پر مظاہرین ڈرون حملوں کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ، جرمن حکومت اور عالمی برداری سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی اور عالمی قوانین کی پامالی رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

یہ مظاہرہ صبح نو بجے شروع ہوا۔ شدید سردی کے باوجود مظاہرین مندوبین کے راستے پر دن بھر موجود رہے اور شام چار بجے یہ احتجاج اختتام کو پہنچا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس