1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بون میں اقوام متحدہ کی ماحولیات سے متعلق کانفرنس

اقوام متحدہ کی ماحولیات سے متعلق کانفرنس آج جرمن شہر بون میں شروع ہو گئی ہے۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تغیر کو روکنے کے لئے مختلف معاہدوں کی تیاری کی جائے گی۔

default

ماحول کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے کارکن عالمی نمائندوں سے ماحول کے بچانے کے لئےکسی موثر معاہدے کا مطابہ کر رہے ہیں

اس کانفرنس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اور مختلف تنظیموں کے قریب دو ہزار مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کا مقصد اسی سال نومبر میں کوپن ہیگن میں متوقع اجلاس سے قبل تحفظ ماحول کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ کوپن ہیگن اجلاس میں ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لئے کیوٹو پروٹوکول کی جگہ ایک نیا معاہدہ تشکیل دیا جائے گا، جس کا اطلاق تمام رکن ممالک پر ہوگا۔ کیوٹو پروٹوکول کی معیاد سال 2012 میں ختم ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ نئی ماحولیاتی حکمت عملی میں سبزمکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کی جائے۔

پوری دنیا میں معمول کی نسبت درجہ حرارت میں شدید تغیر دیکھا گیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین اس تبدیلی کا ذمہ دار بڑھتی ہوئی آلودگی کو قرار دے رہے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کرنے والےایک ادارے گرین پیس کے نمائندے کائیزر کا اس حوالے سے کہنا ہے:’’اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور ہر ایمازون کے برساتی جنگلات اس زمین پر سے ختم ہو جائیں گے۔ لہذا سمندری سطح جو کہ پہلے ہی ایک میٹر اونچی ہے اس مزید بلند ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی زراعت کے لئے استعمال ہونے والی زمین بھی اس قدر خشک ہو جائے گی کہ وہاں کاشت کاری بھی نہیں ہوسکے گی۔‘‘

BdT Greenpeace-Jugendliche demonstrieren

گرین پیس کے کارکن ایک مظاہرے کے دوران

اقوام متحدہ میں مو سمیاتی تبدیلی کے شعبے کے سربراہ یو دی بوئر اس کی چار وجوہات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’ترقی پذیر ممالک میں ضرررساں گیسیوں کے اخراج کے لئے زیادہ بڑے ہدف مقرر کرنا، وہاں گیسوں کے اخراج کو کم سے کم تر کرنا، ماحول کے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کے لئے محفوظ اور مناسب امداد کی فراہمی، اور ایک ایسی حکمت عملی وضع کرنا، جس کی بدولت صاف و شفاف انتظامات اور فیصلے کئے جاسکیں۔‘‘

امریکی صدر باراک اوباما سمیت دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک نے اٹلی میں G8 کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ سال 2050 تک زمین کے درجہء حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں رکھا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا گروپ خود ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ : میرا جمال

ادارت : عدنان اسحاق