1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بون ماحولیاتی کانفرنس بھی تنازعات کی شکار

امریکہ اور چین کے درمیان رواں برس ماحولیاتی مذاکرات کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ تنازعہ جمعہ کو جرمنی کے شہر بون میں تین روزہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے پہلے روز سامنے آیا۔

default

بون کانفرنس کے موقع پر ماحولیاتی تنظیموں کا احتجاج

واشنگٹن انتظامیہ رواں برس منعقد کئے جانے والے ماحولیاتی مذاکرات کی بنیاد کوپن ہیگن کے اجلاس پر رکھنا چاہتی ہے جبکہ چین کا مؤقف ہے کہ اس بات کا تعین اقوام مت‍حدہ کے مسودوں کے تناظر میں کیا جائے۔ خیال رہے کہ امریکہ اور چین کا شمار دُنیا میں کاربن کے اخراج کے ذمہ دار بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

بون میں امریکی مذاکرات کار جوناتھن پیرشنگ نے کہا، ’ہم کوپن ہیگن سمٹ کو ایک اہم سنگ میل خیال

Dr. Jonathan Pershing

امریکی مذاکرات کار جوناتھن پیرشنگ

کرتے ہیں۔ اس وقت طے پانے والا معاہدہ کوئی غیر رسمی سمجھوتہ نہیں تھا۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید مذاکرات کا انحصار اسی معاہدے پر ہونا چاہئے۔‘

چین کے مذاکرات کار سُو وِی کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کوپن ہیگن اور 2007ء میں بالی کے ماحولیاتی مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے اختلافات کا شکار رہے، اس لئے آئندہ مذاکرات کے لئے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی مسودوں کو بنیاد بنایا جانا چاہئے۔

بون کانفرنس گزشتہ برس دسمبر میں کوپن ہیگن کے ماحولیاتی اجلاس کے بعد اس موضوع پر رکھی گئی پہلی نشست ہے، جس کے پہلے ہی روز صورت حال پیچیدہ ہو گئی۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق 175ممالک کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے دوران بیشتر مندوبین کا کہنا ہے کہ پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے کوششیں کی جائیں۔

Das ehemalige Regierungsviertel von Bonn mit Posttower

بون کانفرنس میں 175 ممالک سے مندوبین شریک ہیں

کوپن ہیگن طرز کی آئندہ بڑی ماحولیاتی کانفرنس کا اہتمام رواں برس کے اواخر میں میکسیکو کے شہر کینکن میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم بون کانفرنس کے بعض مندوبین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کینکن اجلاس کے موقع پر بھی کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آ سکے گا۔

کوپن ہیگن سمٹ میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ اُس کانفرنس کے موقع پر طے پانے والے معاہدے کو 120 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اس میں عالمی حدت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم اس معاہدے میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کام کیسے کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے ترقی پذیر ممالک کو سالانہ ایک کھرب ڈالر فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM