1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ چینل کے لائسنس منسوخ

پیمرا نے بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ (پاک نیوز) کے سیٹیلائٹ ٹی وی لائسنسز کو منسوخ کر دیا ہے اور تمام ڈسٹری بیوش نیٹ ورکس اور کیبل آپریٹرز کو ان چینلز کی نشریات  فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے میسرز لبیک پرائیویٹ کے ڈائریکٹرز شعیب شیخ، عائشہ شعیب شیخ، وقاص عتیق اور ثروت بشیر کی سکیورٹی کلیئرنس مسترد کیے جانے کے بعد پیمرا اتھارٹی نے کمپنی کے سیٹیلائٹ ٹی وی لائسنز فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بول نیوز کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس جعلی ڈگریوں کے معاملے پر پیمرا نے بول کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔ بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے بول کی اپیل کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا لائسنس بحال کر دیا تھا۔

بول سے منسلک صحافی ضیا رحمان نے پیمرا کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ نواز شریف کی حکومت نے آزادیء صحافت کے دن بول میڈیا گروپ کو خاموش کرایا ہے۔ حکومت اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی عظمیٰ الکریم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ بول ٹی وی میں کام کرنے والے صحافیوں نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے ایک ٹوئٹ میں لکھا،''پیمرا شریف خاندان کا ایجنٹ بن گیا ہے۔ انہوں نے آزادیء صحافت کے دن اس چینل کو بند کیاہے جو ان کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کر رہا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ بول چینل پر عامر لیاقت کے پروگرام کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔ عامر لیاقت نے اپنے پروگرام میں کئی صحافیوں، معاشرے کے لبرل سرگرم کارکنوں اور بلاگرز کے خلاف توہینِ مذہب اور غداری جیسے الزامات عائد کیے تھے۔ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں ایسے الزمات انتہا پسند عناصر کو کسی بھی سنگین اقدام اٹھانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ پیمرا نے متنازعہ ٹی وی اینکر عامر لیاقت کو ٹی وی پر نفرت آمیز مواد نشر کرنے کے جرم میں معافی مانگنے کا حکم جاری کیا تھا۔

DW.COM