1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بولے وائیو ٹیسٹ میں پاکستان کی جیت

بولے وائیو میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پیر کو زمبابوے کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ پاکستانی ٹیم کو دوسری اننگز میں یہ میچ جیتنے کے لیے 88 رنز کا ہدف ملا تھا، جو اس نے تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

default

ٹیسٹ کپتان مصباح الحق

سن 2005ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان نے متواتر دو ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ پاکستان نے دورہء ویسٹ انڈیز کے دوران دوسرے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کی تھی اور اب زمبابوے کے شہر بولے وائیو میں زمبابوے کو شکست دی ہے۔

بولے وائیو ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے نمایاں کھلاڑی اوپنر محمد حفیظ رہے، جنہوں نے پہلی اننگز میں عمدہ بلے بازی کی اور سینچری بنائی۔ اسی طرح انہوں نے غیر معمولی بولنگ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں چار وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کی اس کارکردگی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پاکستان کی طرف سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فاسٹ بولر اعزاز چیمہ بھی کرکٹ ناقدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی اور زمبابوے کی بیٹنگ لائن کو باندھ کر رکھ دیا۔ اس طرح  32 سالہ اعزاز پاکستان کی طرف سے پہلے ٹیسٹ میں بہترین بولنگ کروانے والوں کی فہرست میں دوسرا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

Flash-Galerie Cricket Spieler Pakistab Mohammad Hafeez

بولے وائیو ٹیسٹ کے بہترین کھلاڑی محمد حفیظ قرار پائے

اس ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری دن جب زمبابوے نے بیٹگ کا آغاز کیا تو ان کی ساری ٹیم  144 رنز بنا کر جلد ہی آؤٹ ہوگئی۔ نمایاں بلے باز تابو رہے جنہوں نے اپنے اٹھاون رنز میں ایک چھکا اور پانچ چوکے لگائے۔ اگرچہ زمبابوے کی ٹیم پہلی اننگز میں 412  کا بڑا اسکور کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی تاہم دوسری اننگز میں اس کے بلے بازوں کی ناتجربہ کاری کو سب نے دیکھا۔ پہلی اننگز میں سینچری بنانے والے ٹینو ماوایو دوسری اننگز میں صرف بارہ رنز ہی بنا سکے۔ کئی ناقدین نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو جائزہ لینا چاہیےکہ زمبابوے کی ٹیم  ٹیسٹ ٹیم کا درجہ رکھنے کی اہل ہے یا نہیں۔

موجودہ دورے کے بعد کوچنگ کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے اس جیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ بطور کوچ  اپنے آخری ٹیسٹ میچ میں وہ سرخرو ہوئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم اس دورے کے دوران تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیلے گی۔ پہلا ایک روزہ میچ آٹھ ستمبر کو بولے وائیو میں ہی کھیلا جائے گا۔

 

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس