1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بولیویا: پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے پر پُرتشدد احتجاج

احتجاجی مظاہرین نے بولیویا کے صدر ایوو مورالیس کے محل پر بھی حملہ کردیا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی۔

default

بولیویا میں پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے فیصلے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے علاوہ پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت لاپاز میں ٹرانسپورٹ بالکل غائب رہی جبکہ حالات خراب ہونے کے خوف میں مبتلا عوام نے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا رخ کیا تاکہ ذخیرہ کرنے کے لیے راشن اور دیگر ضروری اشیاء خریدی جا سکیں۔ ایئرپورٹ کے اردگرد ایل آلٹو کے رہائشی علاقے میں ہزاروں مظاہرین نے سڑک پر موجود رکاوٹیں توڑ دیں، سڑکوں پر ٹائر جلائے اور حکومتی عمارتوں پر پتھر برسائے۔

بولیویا کے عوام کا یہ احتجاج دراصل عوام میں مقبول سمجھے جانے والے صدر ایوو مورالیس کی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز پٹرولیم مصنوعات پر بڑے پیمانے پر دی جانے والی مالی اعانتیں واپس لینے کے فیصلے کے خلاف کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 83 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

Evo Morales

بولیویا کے صدر ایوو مورالیس عوام میں بے حد مقبول سمجھے جاتے ہیں۔

بولیوین صدر نے سبسڈیز واپس لینے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی کم کرنے کے لیے بدھ کے روز تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس فیصلے کے باوجود ملک کی طاقتور مزدور یونینوں اور سول گروپوں نے ہڑتالیں اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

احتجاج میں شریک لوگوں کو شکوہ ہے کہ موجودہ صدر غریب اور متوسط طبقے کی حمایت سے اقتدار میں آئے اور ان کے اس فیصلے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک خاتون لانڈری ورکر پیٹریشیا کویو کا کہنا تھا، ’’ہم صدر کو اقتدار میں لائے ہیں اور ہم ان سے یہ اقتدار واپس بھی لے سکتے ہیں۔‘‘

ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں صدر نے ملکی فوج کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ ضرورت مند افراد تک خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت پہنچانے کا بندوبست کرے جبکہ ہڑتالی ملازمین کی وجہ سے رکے ہوئے ٹرانسپورٹ اور فضائی سفر کے نظام کی بحالی کے لیے بھی فوجی اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس