1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوفورس توپ کا جن ایک بارپھر بوتل سے باہر

بھارت میں سی بی آئی کی طرف سے تقریبا 20 سال پرانے بوفورس توپ اسکینڈل کیس کے اہم ملزم اور اطالوی تاجر اوتاویو قطروچی کا نام انٹرپول کی ریڈکارنر نوٹس سے نکال دئے جانے کے فیصلے سے ملک کی سیاست گرما گئی ہے۔

default

لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ سی بی آئی کا فیصلہ بوفورس اسکینڈل کے عدالتی عمل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

مرکزی تفتیشی ایجنسی یعنی سی بی آئی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قطروچی کے خلاف انٹرپول کے ریڈکارنر نوٹس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل ملن بنرجی کے مشورے پر یہ فیصلہ کیا گیا ۔ قطروچی کے خلاف یہ نوٹس تقریباَ َ دس سال قبل جاری کیا گیا تھا لیکن الزامات کا سامنا کرنے کے لئے انہیں بھارت لانے کی حکومت کی تمام کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ جب اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی تو ریڈ کارنر نوٹس سے قطروچی کے نام کو نکال دینے کے فیصلے کے بارے میں عدالت کو 30جولائی کو مطلع کردیا جائے گا۔

سی بی آئی کے اس قدم سے یہاں سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ حکومت سرکاری اداروں کو اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال کررہی ہے۔ بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ حکومت حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کا یہ قدم اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کا استعمال کس طرح کرتی ہے۔ لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ سی بی آئی کا فیصلہ بوفورس اسکینڈل کے عدالتی عمل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی سی بی آئی کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انصاف کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی رہنما اور اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی نے سی بی آئی کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن حکمران کانگریس پارٹی نے سی بی آئی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور نائب وزیر خارجہ آنند شرما نے کہا کہ مختلف عدالتوں میں اس معاملے کوکئی بار خارج کیا جاچکا ہے ا ور 2004 میں دہلی کی عدالت نے فیصلہ کیا کہ اس میں ایک ذرا بھی ثبوت نہیں ہے۔

Rajiv Gandhi

اسی کیس کی وجہ سےسن 1988 میں راجیو گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا

خیال رہے کہ بوفورس توپ اسکینڈل سن 80 کے عشرے کا ہے جب بھارت نے سویڈن کی بوفورس کمپنی سے تقریبا 1.4 بلین ڈالر کی توپیں خریدی تھیں۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ اس سودے میں 1.4 کروڑ ڈالر کی رشوت لی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جن لوگوں پر الزامات عائد گئے ان میں قطروچی کے علاوہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور صنعت کار ہندوجابرادران کے نام شامل ہیں۔

بی جے پی نے اس معاملے کو انتخابی موضوع بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی نے اس پرنکتہ چینی کی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما آنند شرما نے کہا کہ یہ گڑے مردے کو اکھاڑنے جیسا ہے۔ خیال رہے کہ سن 1987 میں پہلی مرتبہ منظرعام پر آنے والے بوفورس توپ اسکینڈل نے بھارتی سیاست کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ اُس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کو نہ صرف استعفی دینا پڑا تھا بلکہ ان کی کانگریس پارٹی کوسن 1989میں ہوئے عام انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اب تویہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حالیہ عام انتخابات میں اس مرتبہ کس پارٹی کو فائدہ اور کسے نقصان ہوتا ہے۔

افتخار گیلانی ، نئی دہلی