1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوسنی جنگ کے دوران جنگی جرائم کا انتہائی مطلوب ملزم راتکو ملاڈچ گرفتار

بوسنیا کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے مطلوب بوسنی سرب فوجی ملزم راتکو ملاڈچ کو سربیا سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

default

سربیا کے صدر بورس ٹاڈچ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں گزشتہ سولہ سال سے مفرور بوسنی سرب فوج کےاس سابق کمانڈر کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔ سرب صدر بورس ٹاڈچ نے اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ سرب جنگ کے دوران جنگی جرائم کے انتہائی مطلوب ملزم راتکو ملاڈچ کو گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاڈچ کو سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کرنے والی بین الاقوامی عدالت کے حوالے کرنے کے لیے ضروری کارروائی کی جا رہی ہے۔

جنرل راتکو ملاڈچ سابق بوسنی سرب رہنما راڈووان کراڈچچ کا آرمی چیف تھا، جس نے سربیا کی جنگ کے دوران کراڈچچ کی فوج کی کمان سنبھالی رکھی تھی۔ 2008ء میں کراڈچچ کی گرفتاری کے بعد ملاڈچ اس جنگ کے حوالے سے انتہائی مطلوب ملزم تھا۔ یہ دونوں ملزم دی ہیگ میں نسل کُشی اور جنگی جرائم کی ایک خصوصی عدالت کو مطلوب تھے۔

Ratko Mladic Festnahme

جنرل راتکو ملاڈچ سابق بوسنی سرب رہنما راڈووان کراڈچچ کا آرمی چیف تھا

بلغراد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرب صدر ٹاڈچ نے ملاڈچ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’ اس گرفتاری سے نہ صرف سربیا کا ایک بڑا بوجھ ختم ہو گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ہمارے ماضی کا ایک بدقسمت باب یہیں اختتام پذیر ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد ملاڈچ کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملاڈچ کے DNA ٹیسٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہی وہ ملزم ہے، جو سابق یوگوسلاویہ سے متعلق جنگی جرائم کی سماعت کرنے والی بین الاقوامی عدالت کو مطلوب ہے۔

کراڈچچ کے حکم پر جنرل ملاڈچ اوراس کی فوج نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کرنے والی مسلم ریاست بوسنیا ہیرسے گووینا کے دارالحکومت ساراژیوو کا 43 مہینوں تک محاصرہ کیے رکھا تھا، جسے جدید جنگی تاریخ کا طویل ترین محاصرہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس دوران 1995ء میں سریبرینستا میں آٹھ ہزار مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا گیا۔

69 سالہ راتکو ملاڈچ کی گرفتاری کی اطلاع کے فوری بعد ہی یورپی یونین کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب سربیا یورپی یونین میں شامل ہونے کے راستے پر ایک قدم مزید آگے آ گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران عہدیدار کیتھرین ایشٹن نے ملاڈچ کی گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کو بلاتاخیر جنگی جرائم کے خصوصی ٹریبیونل بھیج دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملاڈچ کی گرفتاری سے عالمی انصاف کے تقاضے پورا کرنے میں مدد ملی گی۔

NO FLASH Ratko Mladic Festnahme

راتکو ملاڈچ اور راڈووان کراڈچچ

اس نئی پیشرفت پر برطانوی وزیر دفاع نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاڈچ کی گرفتاری سے سربیا کے عوام کو اپنے ماضی کے ایک ناخوشگوار باب بند کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ملاڈچ کی گرفتاری کو ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ دوسری طرف مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ آندرس فوگ راسموسن نے بھی ملاڈچ کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی گرفتاری سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

یورپی یونین میں شمولیت کے لیے سربیا نے 2009ء میں درخواست جمع کروائی تھی۔ یورپی یونین کا رکن ملک بننے کے لیے سرب حکومت کو ملک میں سیاسی اصلاحات لانے کے علاوہ کراڈچچ اور ملاڈچ کی گرفتاری کو بھی ممکن بنانا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس