1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بوسنی آئین غیر منصفانہ ہے، یورپی عدالت کا فیصلہ

انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے منگل کو یہ فیصلہ سنایا کہ بلقان کی ریاست بوسنیا ہیرسےگووینا کا آئین غیر منصفانہ ہے جو ایسے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث ہے جو نسلی یا مذہبی حوالے سے سرب، کروآٹ یا مسلمان نہیں ہیں۔

default

ساراژیوو میں بوسنی پارلیمان کی عمارت

سابق یوگوسلاویہ کی تقسیم کے بعد وجود میں آنے والی ریاستوں میں سے بوسنیا ہیرسے گووینا ایک ایسا ملک ہے جس کا آئین بوسنی خانہ جنگی کے خاتمے کے معاہدے کے نتیجے میں نافذ العمل ہوا تھا۔ فرانسیسی شہر شٹراس برگ میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلے کے بعد ساراژیوو میں بوسنی حکومت اب اس امر کی پابند ہے کہ ملکی آئین میں ترامیم کی جائیں۔

عام شہریوں کے مساوی حقوق کے حوالے سے بوسنی آئین کے غیر منصفانہ ہونے سے متعلق یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے اپنا فیصلہ بوسنیا میں روما نسل کے خانہ بدوشوں کی تنظیم کے صدر اور ساراژیوو میں مقامی یہودی آبادی کے ایک سابق سربراہ کی طرف سے دائر کئے گئے مقدمات کی سماعت کے بعد سنایا۔

بوسنیا ہیرسے گووینا میں داخلی سیاسی حوالے سے بہت اہمیت اختیار کر جانے والے ان دونوں مقدمات میں شکایت کی گئی تھی کہ اس یورپی ملک میں عام شہریوں میں سے ہر کوئی نہ تو صدارتی انتخابی امیدوار بن سکتا ہے اور نہ ہی پارلیمانی الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔

ان دونوں مقدمات میں درخواست دہندگان نے کہا کہ 1995میں امریکہ میں Dayton کے مقام پر جو معاہدہ طے پایا تھا، بوسنی جنگ کا خاتمہ اُسی معاہدے کے نتیجے میں ممکن ہوا تھا، اور اُسی سمجھوتے نے ملکی آئین کی تیاری میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ تاہم بلقان کی اس ریاست میں اِسی آئین کے تحت معمول کے شہری حقوق کے حامل روما نسل کے باشندوں اور یہودیوں کی حیثیت ایسی ہے کہ وہ نہ تو بوسنی صدارتی انتخابات میں امیدوار ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملکی پارلیمان کے ایوان بالا کی رکنیت کے لئے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

Bosnien Dayton Flash-Galerie

ڈیٹن معاہدے پر اتفاق رائے سے قبل لی گئی مذاکراتی شرکاء کی ایک یادگار تصویر

اس مقدمے کی سماعت کے بعد شٹراس برگ کی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ بوسنی آئین کی دستاویز میں ایسے راستے کھلے رکھے گئے ہیں جن کے ذریعے ملکی آبادی کے صرف تین بڑے گروپوں کے لئے تو اقتدار میں شراکت کو یقینی بنایا گیا ہے، لیکن کسی بھی جمہوری ملک میں شہری حقوق کی اصل روح کی نفی کرتے ہوئے، چھوٹی اقلیتوں کے حقوق کو بڑے پیچیدہ انداز میں محدود کیا جا چکا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ جب ڈیٹن کا معاہدہ طے پایا تھا تو مقصد خانہ جنگی کے شکار اس خطے میں کسی نہ کسی طرح ایسے عبوری امن کا قیام تھا، جسے بتدریج مستحکم بنایا جانا تھا۔ تاہم یورپی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اقتدار میں شراکت کے کئی ایسے دیگر قانونی طریقے بھی ہوتے ہیں جن کے ذریعے تمام شہریوں کے لئے مساوی شہری حقوق اور امکانات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور جو کسی خاص مذہب یا نسل کے افراد کو اقتدار میں شراکت سے محروم نہیں رکھتے۔

بوسنیا میں چار سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ 1995 کے Dayton معاہدے ہی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ بوسنی جنگ یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے آج تک کا سب سے بڑا خونریز تنازعہ ثابت ہوئی تھی۔

بوسنیا ہیرسےگووینا کی ریاست دو حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک بوسنیا ہیرسےگووینا پر مشتمل مسلم کروآٹ فیڈریشن ہے اور دوسری بوسنی سرب جمہوریہ سرپسکا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM