1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بوسنیا ہیرسےگووینا کی مسلم برادری کا ذکر کیوں نہیں ہوتا؟

بوسنیا ہیرسےگووینا میں اسلام کئی صدیوں سے یورپ کا حصہ ہے۔ تاہم اسلام کے موضوع پر ہونے والی بحث و مباحثوں میں بوسنیا ہیرسےگووینا کا تذکرہ نہ ہونے کے برابر ہی سنائی دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

بوسنیا ہیرسےگووینا کی مسلم برادری اور ان کے مختلف ادارے سیکولرزم کے اصولوں پر کاربند ہیں اور یہ خود مختار بھی ہیں۔ بوسنیا کے ایک تاریخ دان اور اسلامی امور کے ماہر امیر دورانووچ کہتے ہیں، ’’مذہب سے متعلق سوالات کے جوابات اور تشریح کی بات کی جائے تو مسلم برادری کی خود مختاری کے بہت سے فائدے ہیں، ساتھ ہی یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ کئی دیگر مسلم ممالک میں مذہبی معاملات کو سرکاری اداروں کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔

سیکولر اور معتدل

بوسنیا کے اسلام کو عالمی سطح پر اعتدال پسند کہا جاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں: بوسنیا ہیرسےگووینا کے مسلمانوں صدیوں سے ایک ایسے خطے میں رہ رہے ہیں، جس کے ارد گرد مسیحی ممالک ہیں۔ بوسنیا ہیرسےگووینا کی زبان اور ثقافت پر پڑوسی ملک سربیا کے قدامت پسند یا آرتھوڈاکس کرسچیئنز اور کروشیا کے کیتھولک مسیحیوں کے اثرات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق سوشلسٹ یوگوسلاویہ میں عام زندگی میں مذہب کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا اور یہ ساری چیزیں مسلمانوں پر بھی لاگو ہوتی تھیں۔ تاہم بیسویں صدی کے دوران سیکولرزم کو پروان چڑھانا کا سلسلہ شروع ہوا تو اس دوران اسلام کواس خطے کی شناخت کے طور پر تسلیم تو کیا گیا تاہم اس کے سیاست اور معاشرے میں اثرات کو محدود کر دیا گیا۔ 1985ء میں یوگوسلاویہ میں کرائے جانے والے ایک جائزہ میں کہا گیا کہ صرف 15 فیصد مسلمان اہل ایمان ہیں۔

جنگ سے آنے والی تبدیلی

تاہم 1992 میں بوسنیا کی جنگ نے بوسنیا ہیرسےگووینا کے مسلمانوں کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ تین سال یعنی 1995ء تک انہیں منظم انداز میں قتل کرنے علاوہ بے دخل کیا گیا اور ظلم و زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ یورپی سرزمین پر ہونے والا سب سے بڑا قتل عام تھا۔ سراژیوو میں قائم بوسنی جنگ پر تحقیق کرنے والی ایک ادارے نے بتایا کہ اس جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں سے 80 فیصد اس خطے کے مسلمان تھے۔ تاہم آج سرب آرتھوڈوکس اور کیتھولک کروآٹ کی طرح 90 فیصد بوسنی مسلمان بھی کھلم کھلا مسلمان ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

عام زندگی

بوسنیا ہیرسےگووینا کی بہت کم ہی خواتین حجاب کرتی ہیں اور مسجدوں میں خواتین اور مردوں کے الگ الگ نماز پڑھنے پر بھی سختی سے عمل نہیں کیا جاتا۔ مرد اور خواتین ملاقات کے وقت ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب جنگ کے بعد یہاں بھی شدت پسندانہ سوچ پروان چڑھی ہے۔ ساتھ ہی سلفی نظریات کے حامل افراد بھی اپنے قدم جمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی مذہبیت اور جنگی صدموں کے باوجود بوسنیا ہیرسےگووینا کی مسلم برادری یورپی طرز زندگی اپنائے ہوئے ہے۔