1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بوسنیا کی سابق پلے بوائے ماڈل سزا سے بچنے کے لیے فرار

بوسنیا کی سابقہ پلے بوائے ماڈل سلوبوڈانکا ٹوسچ ملکی عدالت کی جانب سے قید کی سزا سنائے جانے کے بعد فرار ہو گئی ہیں۔ سابقہ مِس بوسنیا پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک گینگسٹر کے خلاف اقدام قتل میں معاونت کی تھی۔

ٹوسچ پر مارچ میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ انیس برس کی عمر میں ان کو مِس بوسنیا کا اعزاز دیا گیا تھا۔ وہ سن دو ہزار آٹھ میں سربیئن پلے بوائے میگزین کے فرنٹ پیچ پر جلوہ گر ہوئی تھیں۔

بوسنیا کی انتظامیہ نے ٹوسچ کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ جب مارچ میں ٹوسچ کے خلاف عدالتی فیصلہ آیا تھا اور ان کو ڈھائی سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی تب عدالت نے ان کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کی تھی۔ وہ تب سراجیوو کے قرب میں اپنے والدین کے گھر پر رہ رہی تھیں اور انہیں عمارت سے نکلنے کی تو اجازت تھی لیکن کاؤنٹی سے باہر جانے کی نہیں۔

جون کے مہینے میں ایک عدالتی پیشی کے دوران سابقہ مِس بوسنیا نے اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ استغاثہ کا ذاتی انتقام معلوم ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے عدالت کی جانب سے اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے لگتا ہے کہ وہ کوئی مجرم ہیں، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔

وہ پابند زندگی کس طرح گزار رہی تھیں کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فارم پر مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

ٹوسچ کے خلاف عدالتی فیصلے کی جولائی میں توثیق ہو گئی تھی تاہم انہوں نے خود کو جیل میں وقت گزارنے کے لیے پیش نہیں کیا تھا۔

تیس سالہ مِس بوسنیا اپنے خلاف الزامات کی تردید تو کرتی ہیں تاہم ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کے انڈر ورلڈ سے گہرے تعلقات تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کے مافیا باس ڈارکو الیز اور ان کے حریف جارج سرالے دونوں ہی سے تعلقات تھے۔

سن دو ہزار چھ میں ٹوسچ نے سرالے کے ساتھ سراجیوو کے ایک حصے میں ڈیٹ کا انتظام کیا جہاں ان کو قتل کرنے کے لیے کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔ سرالے اس حملے میں بچ گئے اور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

الیز کو سن دو ہزار نو میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس وقت وہ نو سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سرالے بھی جیل میں ہیں۔ ان کو بیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔