1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بودھ دہشت گردی کی علامت‘ کا راکھین کا اشتعال انگیز دورہ

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ’بودھ دہشت گردی کی علامت‘ قرار دیا گیا سخت گیر بھکشو رہنما ویراتُھو وہاں اقلیتی روہنگیا آبادی کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن کے کچھ ہی عرصے بعد ریاست راکھین کے ایک اشتعال انگیز دورے پر ہے۔

Buddhistische Mönche Birma Myanmar (Christophe Archambault/AFP/Getty Images)

امریکی ہفت روزہ جریدے ٹائم کے سرورق پر چھپنے والی ویراتھو کی وہ تصویر جس میں اسے ’بودھ دہشت گردی کا چہرہ‘ قرار دیا گیا تھا

سابق برما اور موجودہ میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون سے جمعرات چار مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اپنی بہت جذباتی اور اشتعال انگیز تقریروں کے لیے مشہور اور انتہائی سخت گیر سوچ کے حامل ویراتُھو نامی اس بودھ بھکشو نے آج ریاست راکھین میں ماؤنگ ڈا نامی قصبے کا دورہ کیا۔ یہ بات ویراتُھو کے ساتھ سفر کرنے والے اس کے ایک ساتھی پھوئے تھار نے ٹیلی فون پر خود اے ایف پی کو بتائی۔

Ashin Wirathu (Getty Images/AFP/R. Gacad)

ویراتھو اپنی اشتعال انگیز مسلم مخالف تقریروں کی وجہ سے جانا جاتا ہے

اس خبر رساں ادارے نے لکھا ہے کہ ماؤنگ ڈا میانمار کی ریاست راکھین کا وہی شمالی قصبہ ہے، جو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف گزشتہ خونریزی کا مرکز بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ ویراتُھو کی ابھی تک اس خطے میں موجودگی بدھ مت کی پیروکار آبادی کے نہ صرف راکھین میں انتہائی غربت اور محرومی کی شکار روہنگیا اقلیت بلکہ پورے میانمار کی مسلم آبادی کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔ کافی زیادہ بدنام ہو جانے والا سرکردہ بودھ بھکشو ویراتُھو راکھین کا یہ اشتعال انگیز دورہ ایک ایسے وقت پر کر رہا ہے، جب میانمار کی فوج نے ابھی کچھ عرصے پہلے ہی وہاں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن ختم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق میانمار کی فوج کا راکھین میں یہ کریک ڈاؤن کئی ماہ تک جاری رہا تھا، جس دوران سینکڑوں روہنگیا مسلمان مارے گئے تھے اور 70 ہزار سے زائد اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو کر بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد، سُوچی اور یورپی یونین میں اختلافات

لاکھوں کی ہلاکت سے حوصلے پست نہیں ہوں گے، روہنگیا لیڈر

معروف مسلم وکیل کا قتل، سوچی نے خاموشی توڑ دی

اقوام متحدہ کے تفتیشی اہلکاروں کے مطابق راکھین میں اس فوجی کریک ڈاؤن کے دوران، جو بظاہر وہاں روہنگیا مسلمانوں کے نام نہاد عسکریت پسند گروہوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا، انسانی قتل اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی ایک ایسی پوری مہم دیکھنے میں آئی، جسے ممکنہ طور پر نسلی تطہیر کا عمل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

Bangladesch - Rohingya-Konflikt (Getty Images/A. Joyce)

پانچ برسوں میں میانمار سے قریب پونے دو لاکھ روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو چکے ہیں

Myanmar Rohingya (DW/L. Kafanov)

بدامنی اور خونریزی سے متاثرہ راکھین کا ایک روہنگیا اقلیتی مسلمان عبدالرشید ریاستی دارالحکومت ستوے کے قریب ایک مہاجر کیمپ میں اپنی بیمار بیوی اور بچوں کے ساتھ

میانمار میں روہنگیا مسلم اقلیت کی آبادی ایک ملین سے زائد ہے اور ملکی حکومت ان مسلمانوں کے خلاف خونریز فوجی کریک ڈاؤن کے دوران گینگ ریپ، خوفناک زیادتیوں اور نسلی تطہیر کی طرح کے اقدامات کے اقوام متحدہ کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو سرے سے مسترد کرتی ہے۔

راکھین میں قوم پرست بودھ سیاستدانوں کے مطابق ویراتُھو کے راکھین میں ماؤنگ ڈا نامی قصبے کے دورے کا مقصد وہاں مقامی نسلی اور مذہبی اقلیت کے طور پر رہائش پذیر ان بودھ باشندوں میں علامتی عطیے کے طور پر چاول تقسیم کرنا ہے، جو گزشتہ خونریزی کے دوران بے گھر ہو گئے تھے۔

اسی دوران جمعرات چار مئی ہی کے روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال سے بھی زائد عرصے میں میانمار بالخصوص راکھین میں خونریزی اور قتل و غارت سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے قریب ایک لاکھ ستر ہزار روہنگیا مسلمان فرار ہو کر بنگلہ دیش اور ملائیشیا جیسے کئی قریبی ملکوں کو جا چکے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات