1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بوئنگ بمقابلہ ایئر بس: مقدمے کا جزوی فیصلہ

دنیا میں امریکی ہوائی جہاز ساز ادارے بوئنگ اور یورپی ادارے ایئر بس کے درمیان حکومتوں کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر امریکی حکومت کی اپیل کا فیصلہ عالمی تجارتی ادارے کے پینل کردیا ہے۔

default

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو دو بڑے جہاز ساز اداروں بوئنگ اور ایئر بس کو ملنے والی حکومتی معاونت پر اپیلوں کو نمٹانے کے مشکل مرحلے کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت نے بوئنگ کے لئے جو اپیل دائر کی تھی اُس کا فیصلہ دے دیا گیا ہے اور یورپی یونین کی بوئنگ کے خلاف دائر اپیل کا فیصلہ رواں سال کے آخر میں متوقع ہے۔

بوئنگ کی جانب سے یہ اپیل امریکی حکومت نے دائر کی تھی جب کہ ایئر بس کے حوالے سے اپیل یورپی یونین نے تیار کی تھی۔ امریکہ نے سن دو ہزار چار میں اپیل جمع کروائی تھی جس کے بعد جوابی اپیل دائر کی گئی ۔ اپنی اپیل میں امریکی حکومت نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا تھا کہ اُس نے غیر

Airbus A350 Emirates bestellt Langstreckenjets

ایئر بس 350

قانونی انداز میں کاروبار میں فروغ کے لئے ایئر بس ادارے کو دو سو ارب ڈالر کی رقم دی ہے۔ یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ عالمی ادارے کے اصولوں کے منافی ہے۔ تازہ فیصلے کے خلاف فریقین کو سن دو ہزار تیرہ تک اپیل کا حق حاصل ہے۔

عالمی تجارتی ادارے کے پینل کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بوئنگ نے اِس کو امریکی جہاز سازی کی صنعت کے لئے اچھی خبر اور خوش آئند قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایئر بس ادارے کے بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عالمی ادارے نے اُس کے مؤقف کا وزن دیکھتے ہوئے اُس کے بیشتر نکات سے اتفاق کیا ہے۔ تاہم یورپی اور امریکی حکومتوں کے نمائندے اِس خفیہ فیصلے کے مندرجات پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

Indonesien Adam Air Boeing 737-400 Maschine verschwunden

بوئنگ 737

جہاز سازی کے حریف اداروں کی مقدمے بازی کی اس اپیل پر عالمی تجارتی ادارے کے منصفین نے ایک ہزار صفحے کا فیصلہ تحریر کیا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک مختصر فیصلہ گزشتہ سال ستمبر میں عالمی ادارے کے پینل کی جانب سے امریکہ کو فراہم کیا گیا تھا۔ اب تفصیلی فیصلے کی نقول متعلقہ ملکوں اور پارٹیوں کو دی گئی ہیں۔ اِن دونوں مقدموں کی بنیاد دونوں اداروں کو حکومتی سطح پر دے جانے والی امداد ہے۔ ورلڈ ٹریڈآر گنائزیشن کو یہ طے کرنا تھا کہ یہ مالی معاونت تھی یا حکومت سے قابلِ واپسی قرضہ لے کر کاروبار کو وسعت دی گئی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی یونین کی اپیل پر فیصلے سے ہی پتہ چلے گا کہ کون ہارا کون جیتا ۔ اِن کے خیال میں دونوں حریف اداروں کے درمیان کاروباری چپقلش اگلے فیصلے کے بعد بھی ختم ہونے کا امکان کم ہے۔

یورپی یونین کے تجارتی کمشنر کے ترجمان جان کلینسی کا کہنا ہے کہ دوسری رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو گا کہ کون فتح مند رہا ہے اور کوئی حتمی رائے قائم کرنا ابھی جلدی ہو گا۔ البتہ ایئر بس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلی اپیل میں اُن کے ستر فی صد نکات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ایئر بس کے مطابق فیصلے کے تحت بوئنگ کو کسی تلافی کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ مزید کہا گیا کہ ایئر بس کو ملنے والی مالی معاونت کو جائز اور قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حکومت اور صنعت کے درمیان کاروباری شراکت ہے۔ ایئر بس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اُن کو ملنے والے بعض قرضوں کے حوالے سے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اُن میں مالی معاونت کا عنصر دکھائی دیتا ہے۔

جس انداز کا تبصرہ ایئربس نے کیا ہے ویسا بوئنگ کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔

رپورٹ : عابد حسین

ادارت : افسر اعوان