1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کے خلاف آپریشن: ’ٹیم نمبر6‘ کیا ہے؟

امریکی بحریہ کے SEALS گروپ کے 2400 ارکان کو امریکی مسلح افواج کے بہترین کمانڈوز سمجھا جاتا ہے اور ’ٹیم نمبر چھ‘ ان ’سیلز‘ میں سے بھی سب سے بہترین فوجی ہتھیار سمجھی جاتی ہے۔

default

ہمیشہ خاموشی اور بہت خفیہ انداز میں آپریشن کرنی والی سپر کمانڈوز کی یہ ٹیم اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے بعد سے مسلسل اخبارات کی سرخیوں کی وجہ بنی ہوئی ہے۔

امریکی اسپیشل فورسز کے اس گروپ میں 20 سال تک کمانڈو کے فرائض انجام دیتے رہنے والے راین زنک بتاتے ہیں: ’’جو بھی اہلکار ٹیم نمبر 6 میں شامل ہوتا ہے، وہ بہترین فوجی تصور کیا جاتا ہے۔ اس گروپ میں شمولیت کے خواہش مند 50 فیصد فوجیوں کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔‘‘

USA Elitetruppe Navy SEALS Kampftraining

دہشت گردی کے خلاف ان فوجیوں کو ایک ہفتے تک خصوصی ٹریننگ دی جاتی ہے، جس میں انہیں صرف دو گھنٹے سونے کی اجازت ہوتی ہے

سیلز سیل کی جمع ہے اور یہ لفظ See, Air and Land کا مخفف ہے۔ راین زنک کئی برسوں تک ٹیم نمبر چھ میں رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم پوری دنیا میں اپنے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔ راین زنک نے امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کمانڈوز کو ٹریننگ کے دوران کئی کئی میل تک دریاؤں میں تیرنا پڑتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ان فوجیوں کو ایک ہفتے تک خصوصی ٹریننگ دی جاتی ہے، جس میں انہیں صرف دو گھنٹے سونے کی اجازت ہوتی ہے۔ زنک کہتے ہیں: ’’یہ انتہائی ماہر ہوتے ہیں۔ یہ اسی وقت ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، جب خطرہ انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔ جب خطرہ نہیں ہوتا، یہ لوگ حملہ بھی نہیں کرتے۔ یہ فوجی دس سال سے افغان جنگ کا حصہ ہیں اور سینکڑوں آپریشن کر چکے ہیں۔‘‘

امریکی میڈیا کے مطابق راین زنک اس ٹریننگ میں بھی شامل تھے، جو بن لادن کو ہلاک کرنے سے پہلے کی گئی تھی۔ اس آپریشن سے پہلے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی طرح کا ایک کمپاؤنڈ بنا کر وہاں مشقیں بھی کی گئی تھیں۔ راین زنک کے مطابق اسامہ بن لادن جیسے بڑے ٹارگٹ تک پہنچنے کی کوشش سے پہلے چھوٹے سے چھوٹے ممکنہ ایکشن کی بھی مشق کی جاتی ہے۔ آپریشن کے دوران کوئی بھی عمل اتفاقیہ نہیں ہوتا۔

راین زنک کے مطابق وہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ میڈیا کو کس قدر جلد ’ٹیم نمبر چھ‘ کے بارے میں معلوم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی دوسرے کو یہ پتہ چل جائے کہ کون سا آپریشن کس نے کیا اور اس میں کون کون شامل تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM