1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کے حوالے سے آئی ایس آئی پر نیو یارک ٹائمز کا الزام

اسامہ بن لادن کے ایک کوریئر کے استعمال میں رہنے والے ایک موبائل فون سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ بن لادن کے حرکت المجاہدین کے سے روابط تھے۔ اس شدت پسند تنظیم کو آئی ایس آئی سے قریب سمجھا جاتا ہے۔

default

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ بے بنیاد ہے، پاکستانی فوج

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق یہ موبائل فون مئی میں ایبٹ آباد میں ہونے والے آپریشن کے دوران امریکی حکام کے ہاتھ لگا۔ اس موبائل میں حرکت المجاہدین کے نمبرز بھی موجود تھے، جس سے معلوم ہوا کہ القاعدہ اور اس تنظیم کے روابط تھے۔ حرکت المجاہدین کے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے روابط بتائے جاتے ہیں۔

ایک امریکی افسر نے بتایا کہ کالز ٹریس کرنے پر معلوم ہوا کہ اس تنظیم کے ایک کمانڈر نے آئی ایس آئی کے حکام سے بات کی ہے۔ ایک اور امریکی افسر کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ حرکت المجاہدین کے کمانڈر نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے ہی آئی ایس آئی کے افسر سے رابطہ کیا ہو۔

Flash-Galerie Bin Laden Verfolgung Verfolgungsjagd Versteck USA

یہ ٹیلیفون مئی میں ایبٹ آباد آپریشن کے دوران امریکی حکام کے ہاتھ لگا

پاکستانی فوج نے نیو یارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ فوج کو بدنام کرنے کے حوالے سے جو مہم جاری ہے، یہ سب کچھ اسی کا ایک حصہ ہے۔’’القاعدہ کی وجہ سے پاکستانی فوج کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور دوسری جانب فوج نے القاعدہ کے خلاف زبردست کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ پاکستانی فوج کی یہ تمام قربانیاں نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں‘‘۔

پاکستان میں 2002ء میں حرکت المجاہدین پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تنظیم کوامریکہ اور اقوام متحدہ دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ حرکت المجاہدین زیادہ تر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کارروائیاں کرتی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق آئی ایس آئی اور حرکت المجاہدین کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ ساتھ ہی اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ القاعدہ کو پاکستان میں کسی ساتھی کی ضرورت ہو اور اسامہ بن لادن نے حرکت المجاہدین کو اپنے لیے استعمال کیا ہو۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM