1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی ہلاکت کے پانچ برس بعد سی آئی اے کی ’لائیو ٹویٹس‘

دہشت گرد گروہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے پانچ برس مکمل ہونے کے موقع پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے ’لائیو ٹویٹس‘ کے سلسلے کو کئی حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پانچ برس قبل مئی سن 2011 میں امریکی کمانڈوز کی ایک خصوصی ٹیم نے ایک خفیہ کارروائی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس کارروائی کے پانچ برس مکمل ہونے پر امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) نے اس آپریشن کے بارے میں ’لائیو ٹویٹس‘ جاری کی ہیں۔ #UBLRaid کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سی آئی اے نے اُس وقت کے اپ ڈیٹس اب جاری کیے ہیں۔

ٹویٹس کے اس براہ راست سلسلے سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بن لادن کی ہلاکت کا باعث بننے والا آپریشن عین اس وقت جاری ہے۔

سی آئی اے کی طرف سے اس طرح کا اقدام شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ سی آئی اے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو تاریخی واقعات کو بیان کرنے کے لیے ہی استعمال کرتی ہے۔

سی آئی اے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے پانچ برس مکمل ہونے پر اس عسکری کارروائی کی روداد ٹویٹس کے ذریعے یوں جاری کی جائے گی، جیسے کہ یہ آپریشن اس وقت جاری ہو۔

کئی حلقوں نے سی آئی اے کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے تو دوسری طرف کچھ لوگوں نے اس کو ستائش کی نظروں سے بھی دیکھا ہے۔ کئی ناقدین کے مطابق سی آئی اے نے اس حوالے سے معلومات عام کرنے میں پانچ برس کی تاخیر کر دی۔

یہ امر اہم ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف کیا جانے والا یہ آپریشن کن حالات میں اور کس طرح مکمل کیا گیا، اس بارے میں ابھی تک یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس آپریشن کی تفصیلات کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا گیا تھا۔

دوسری طرف سی آئی اے کے سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے القاعدہ نیٹ ورک کافی کمزور ہو چکا ہے لیکن یہ گروہ اب بھی ایک خطرہ ہے۔ اتوار یکم مئی کے دن ایک نشریاتی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ نیٹ ورک کے ایک بڑے حصے کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن یہ مکمل طور پر ابھی بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔

جان برینن کے بقول شام اور عراق میں فعال انتہا پسند گروہ داعش بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جہادی گروہ کے سربراہ کو ہلاک کرنے سے بڑا فرق پڑے گا۔

برینن نے اعتراف کیا کہ داعش سے لاحق خطرات شدید ہیں اور اس جہادی گروہ کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ برینن کے مطابق اگر داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو پکڑ لیا جاتا ہے تو اس جہادی گروہ کی سرگرمیوں میں بہت بڑا فرق پڑے گا۔