1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی ہلاکت، پاکستانی تحقیقاتی کمیشن کی ’تشکیل‘

پاکستانی حکومت نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں وعدہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل میں اپوزیشن کی تجاویز لی جائیں گی۔

default

اس سے قبل حکومت کی طرف سے اعلان کردہ تفتیشی پینل کو اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی نے مسترد کر دیا تھا۔ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کے روز ایک پانچ رکنی کمیشن کا اعلان کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد اس بات کا پتہ چلانا تھا کہ آیا اسامہ بن لادن کی پاکستانی میں موجودگی، پاکستانی فوج یا خفیہ ادارے کے کسی افسر کے علم میں تھی یا ایسا خفیہ اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ممکن ہوا۔

اس تحقیقاتی کمیشن کو پاکستانی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ کمیشن کی تشکیل میں اس کی رائے کو مدنظر نہیں رکھا گیا جبکہ اس جماعت نے اس حکومتی تحقیقاتی کمیشن کے پانچ میں سے تین اراکین کی تقرری پر تحفظات بھی ظاہر کیے تھے۔

Pakistan Anti USA Demonstration

اسامہ بن لادن کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے

اس کمیشن کی تقریری کے فورا بعد تحلیل پر پاکستانی اخبارات نے خوب شوروغل مچایا تھا۔ ایک مقامی اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی ایک شہ سرخی تھی: ’’اسامہ کمیشن، قبل از وقت موت کا شکار ہو گیا‘‘۔ اسی طرح ایکسپریس ٹریبیون نامی اخبار میں لکھا گیا تھا: ’’ایبٹ آباد کمیشن، اڑان سے پہلے ہی کریش ہوگیا‘‘

مقامی میڈیا کی شدید تنقید کے بعد جمعہ کے روز پاکستانی حکومت نے اس سلسلے میں نئے سرے سے کمیشن کی تقرری کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔ وزیراعظم گیلانی کے ترجمان شبیر انور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل میں اپوزیشن کو شامل کیا جائے گا: ’’حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں حزب اختلاف کو ساتھ ملایا جائے۔ حکومت اس سلسلے میں مشاورت اور حتمی فیصلے تک پہنچنے میں سنجیدگی اور مستعدی سے جتی ہوئی ہے تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ہم سالانہ وفاقی بجٹ پیش کرنے میں مصروف ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز پر امریکی نیول سیِلز نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک کمانڈو ایکشن میں القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ واشنگٹن انتظامیہ کا الزام ہے کہ اسامہ بن لادن اس مکان میں گزشتہ کئی برسوں سے رہ رہے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس