1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی ہلاکت: پاکستانیوں کا ردعمل حیرت سے عبارت

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت پرپاکستانی فوج اور حکومت کی مسلسل خاموشیملک کے کسی بھی حصے میں خوشی یا جشن کے عوامی مناظر دیکھنے میں نہیں آئے۔

default

زیادہ تر لوگ ابھی تک اس بارے میں شش وپنج میں مبتلا ہیں کہ ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے آپریشن کے پیچھے اصل تفصیلات کیا ہیں؟

کیا اسامہ بن لادن کو آپریشن ایبٹ آباد ہی کے دوران ہلاک کیا گیا؟ بن لادن کی ہلاکت میں پاکستانی حکومت کا کردار کیا ہے؟ القاعدہ کے اس رہنما کی موت کے بعد پاکستان کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا ہو گا اور آیا پاکستانی

حکومت اصل حقائق عوام کے سامنے لانے سے گریز کر رہی ہے؟

پاکستان میں اس وقت عوامی سطح پر اٹھائے جانے والے ان تمام سوالات کے جواب میں پاکستانی فوج اور حکومت کی مسلسل خاموشی عوامی شبہات میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔ بعض سادہ لوح باشندے ابھی تک شواہد طلب کرتے ہوئےیہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسامہ بن لادن سچ مچ مر گیا ہےیا یہ ماضی کی طرح ہی کا کوئی اعلان ہے۔

Pakistan Indien Kaschmir

بن لادن کی موت پر عوام کا ملا جلا ردعمل

ملک کا مذہبی طبقہ اس وقت سکتے کے عالم میں ہے جبکہ عوامی سطح پر امریکہ مخالف جذبات کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اس واقعے کو حکومتی پالیسی کے برخلاف پاکستانی حکومت کی نہیں بلکہ امریکہ کی فتح سمجھہ رہے ہیں۔

ملک میں ممکنہ ردعمل کے نتیجے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی قونصل خانوں سمیت اہم عمارتوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں پولیس کا گشت بھی شروع ہو گیا ہے۔

کالعدم مذہبی عسکری جماعتوں نے اس واقعے کے بعد چپ سادھ لی ہے جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے سب سے بڑے مبینہ ٹارگٹ کے خاتمے کے بعد اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ اس لیے امریکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے اور پاکستانی حکومت کو اپنی پالیسی دوبارہ ترتیب دینا چاہیے۔

تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد اب پاکستان پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کے حوالے سے امریکی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔

سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ آپریشن ایبٹ آباد پاکستانی فورسز کو کرنا چاہیے تھا، امریکی افواج کا آپریشن ملکی خود مختاری کے منافی ہے۔

Pakistan Asif Ali Zardari neuer Präsident

صدر آصف علی زرداری ، وزیر اعظم گیلانی اور نواز شریف ، فائل فوٹو

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آپریشن کس نے کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما بھی اس سلسلے میں بات کرنے سے فی الحال گریز کر رہے ہیں۔

معروف تجزیہ نگار سلیم بخاری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستانی دفتر خارجہ کا یہ بیان کون مانے گا کہ اس آپریشن میں صرف امریکی افواج نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق، ’’اگر اس معاملے میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے تو پاکستان کے حساس ادارے اور حکمران طبقہ صحیح صورت حال عوام کے سامنے لانے سے کیوں کترا رہے ہیں‘‘۔ ان کے بقول یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں ہونے والے واقعے کی خبریں امریکہ سے مل رہی ہیں اور پاکستانی حکومت چپ سادھے بیٹھی ہے۔

معروف عسکری تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید کہتے ہیں کہ آپریشن ایبٹ آباد پاکستان کی طرف سے فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات کے نتیجے میں ہوا اور پاکستان پہلے سےکیے گئے ایک معاہدے کے مطابق اسامہ بن لادن کے حوالے سے کیے جانے والے کسی بھی آپریشن میں مدد کا پابند تھا۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس