1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی ہلاکت: تحقیقاتی رپورٹ کی تکمیل عنقریب ہی

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ مزید چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گی۔

default

اسامہ بن لادن

جمعرات کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ کمیشن نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایک سو گواہان کی شہادتیں قلمبندکی ہیں۔ ان افراد میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان، مسلح افواج اور سول اداروں کے افسران، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کمیشن نے دو مرتبہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے اس کمپاﺅنڈ کا معائنہ بھی کیا جہاں 2 مئی کو امریکی فوج نے ایک کارروائی میں اسے ہلاک کر دیا تھا۔ جاوید اقبال کے مطابق کمیشن نے ایبٹ آباد کے علاوہ کالا ڈھاکہ اورطور خم کے ان علاقوں کا دورہ بھی کیا جہاں سے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی خود مختاری کو پامال کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ تک پہنچے تھے۔
صدر آصف علی زرداری سے تحقیقات کے بارے میں ایک سوال پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا ،’’ جہاں تک صدر پاکستان کا تعلق ہے، ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے ان کو خط لکھ رکھا ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے آئیں اورسوالات کا جواب دیں تاہم ایک پہلو آپ کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جہاں تک صدر کے عہدے کا تعلق ہے انہیں استثنیٰ حاصل ہے اور پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ میں بھی خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص استثنیٰ کا دعویٰ کرے تو پھر کمیشن اس پر بھی ضرور غور کرے۔‘‘

ehemaliges Haus von Osama Bin Laden FLASH-GALERIE

ایبٹ اباد میں اسامہ بن لادن کا گھر


جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کے پاس ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق کوئی ثبوت ہیں، تو وہ انہیں قومی فریضہ سمجھتے ہوئے کمیشن کے علم میں لائیں۔ ایک سوال پر کہ اگر حمود الرحمن کمیشن کی طرح یہ رپورٹ بھی منظرعام پر نہ آئی تو کیا ہو گا، جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس رپورٹ کو منظرعام پر لایا جائے تاہم ان کے بقول یہ اختیار حکومت کو حاصل ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

۔کمیشن کے دائرہ اختیار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا، ’’ کوئی ایسا ادارہ نہیں ہوگا کہ جس کے حصے میں کوئی غلطی ہو تو کمیشن اس لیے اس کی نشاندہی نہ کرے کہ یہ بڑا ادارہ ہے یا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے۔ ایسا نہیں ہوگا اگر کسی کے حصے میں کوئی غلطی ہے تو وہ سامنے آئے گی۔ لیکن ایک بات میں آپ کوبتا دوں کہ کمیشن یہ تعین نہیں کرے گا کہ کون معصوم یا قصور وار ہے۔ ہمیں یہ مینڈیٹ ملا ہے کہ غلطیوں اورکوتاہیوں کو اجاگر کیا جائے جو کہ کیا جائے گا۔‘‘

Flash Galerie Bin Laden und Ayman al-Zawahiri

اسامہ بن لادن ایمن اظواہری کے ہمراہ، فائل فوٹو


انہوں نے کہا کہ کمیشن نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو پہلے ہی طلب کر کے یہ پوچھا تھا کہ واشنگٹن میں پاکستانی ایمبیسی نے امریکیوں کو جو لاتعداد ویزے جاری کیے، ان کا کیا مقصد تھا ۔انہوں نے کہا کہ اب میموگیٹ اسکینڈل کا بڑا حصہ بھی اسامہ بن لادن سے متعلق ہے اورکمیشن چاہے تو حسین حقانی کو دوبارہ طلب کر سکتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ سے اہم شواہد اکٹھے کیے جانے کے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کمیشن نے اس بارے میں امریکی حکام سے رابطہ کیا تھا، جس پر معلوم ہوا کہ یہ شواہد زیادہ تر عربی زبان میں ہیں اور ان کے انگریزی یا کسی اور زبان میں ترجمے کے لیے چھ ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔
جسٹس جاوید اقبال نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ایبٹ آباد کمیشن کے کام کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے صرف پانچ ماہ کے عرصے میں قابل ذکر کام کیا ہے اور اس کے نتائج جلد پوری قوم دیکھ لے گی۔
رپورٹ: شکور رحیم،، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM