1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی ہلاکت ایک مشترکہ کامیابی، گروس مین

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب مارک گروس مین نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کامیابی ہے۔

default

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب مارک گروس مین

اسلام آباد میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے پہلے اجلاس میں شرکت کے بعد پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر اور افغان نائب وزیر خارجہ جاوید لودھین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک گروس مین کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کے نمائندوں نے تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

مارک گروس مین نے کہا، ’’پیر کے روز اسامہ بن لادن کی ہلاکت افغانستان، پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کامیابی ہے۔ یہ ایک ایسے آدمی کا خاتمہ تھا، جس نے خطے کی جمہوری حکومتوں کے خلاف تشدد برپا کر رکھا تھا۔‘‘

امریکی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان میں سیاسی استحکام اور اقتصادی اور سماجی خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی طویل المیعاد کوششیں ترک کر دے گا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مارک گروس مین نے کہا: ’’میں ہر سازشی نظریے کا جواب نہیں دے سکتا، جو ہر جگہ موجود ہے۔ اتنا بتا سکتا ہوں کہ اسامہ بن لادن ہلاک ہو چکا ہے۔ اس کو اسپیشل فورسز نے یہاں پر ہلاک کیا۔ یہی صدر اوباما نے کہا اور یہی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے۔‘‘

Superteaser NO FLASH Osama bin Laden

’ اسامہ بن لادن کی ہلاکت امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کامیابی ہے‘

پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن ماضی کا قصہ بن چکا ہے اور اس کے بارے میں بات کرنا وقت کا ضیاع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردوں کا کوئی ایمان، مذہب اور ملک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے امریکی دوستوں اور افغان بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔

’’ہم مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ مل کر خطے کے عوام کے لیے استحکام اور خوشحالی کا نیا باب رقم کر سکیں۔ ‘‘

بھارت کی جانب سے پاکستان میں امریکی طرز کی کارروائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا کہ نہ ہی پاکستانی سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے دیا جائے گا اور نہ کسی دوسرے ملک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دی جائے گی۔

اس موقع پر افغان نائب وزیر خارجہ جاوید لودھین نے کہا کہ اسامہ بن لادن صرف امریکہ کا ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا بھی دشمن تھا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’افغانستان اس سال ترقی اور خوشحالی کے وژن کے بہت نزدیک ہے اور ہمیں اس ہدف کے حصول کے لیے اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد درکار ہے۔‘‘

دریں اثناء تینوں ممالک کے اہلکاروں نے اس سہ فریقی مشاورت کے خاتمے پر اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ خطے اور تینوں ممالک کے عوام کے لیے دیرپا امن و استحکام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس