1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی موت اور پاکستانی اخبارات

پاکستانی اخبارات نے اسامہ بن لادن کی موت کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے، کئی بڑے اخبارات نے اس حوالے سے خصوصی ایڈیشن بھی شائع کیے۔

default

پاکستانی اخبارات نے اسامہ بن لادن کی موت کی خبروں کو اپنے اپنے انداز میں شائع کیا۔ روزنامہ ڈان نے اپنی شہ سرخی میں یہ سوال اٹھایا کہ اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مارا گیا یا پھر گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔

انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کی شہ سرخی تھی Liquidated جبکہ ڈیلی نیوز کی ہیڈ لائن تھی کہ اوباما نے اسامہ کو دبوچ لیا یعنی Obama gets Osama۔ ڈیلی نیشن کی ہیڈ لائن تھی: بن لادن دوبارہ مر گیا یعنی Bin Laden Dies Again۔

روزنامہ ایکسپریس کی سرخی تھی کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو مار کر لاش دریا میں بہا دی۔ زیادہ تر اخبارات نے اپنی شہ سرخیوں میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ذکر کیا لیکن روزنامہ الشرق نے اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی سرخی جمائی۔ یاد رہے کہ اکثر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جاں بحق کا لفظ بالعموم صرف مسلمانوں کے انتقال کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔

Pakistan Zeitung Ausnahmezustand Leser

روزنامہ اوصاف کی شہ سرخی تھی: امریکہ کا سب سے بڑا باغی اسامہ بن لادن شہید؟ اسی طرح روزنامہ پاکستان کی ہیڈ لائن اس طرح سے تھی: امریکی شب خوب کامیاب، اسامہ بن لادن ہلاک، لاش سپرد آب۔

پاکستانی اخبارات نے اپنے اداریوں میں امریکی کارروائیوں کے ملک کے دیگر علاقوں تک پھیل جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت نے حکومت پاکستان کو شرمندگی سے دوچار کیا ہے۔ بعض اخبارات نے اپنے اداریوں میں پاکستانی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی از سر نو تشکیل کرے۔

انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے نیو یارک میں ہونے والے جشن اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی تصاویر ساتھ ساتھ شائع کیں۔ بعض اخبارات کے نزدیک اسامہ کی موت کی جعلی فوٹو کے جاری ہونے اور اس کی اصلی فوٹیج کے منظر عام پر نہ لائے جانے اور پاکستانی فوج کی خاموشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’دال میں کچھ کالا ضرور ہے‘۔

شام کو شائع ہونے والے ایک پاکستانی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد کے لیے اعلان کردہ پانچ کروڑ ڈالر کا انعام اب کس کو ملے گا۔ پاکستان کے بیشتر اخبارات نے اتفاق کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم باب ختم ہو گیا ہے تاہم ابھی اس جنگ کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر عبداللہ طارق سہیل نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان کے بڑے اخبارات نے اسامہ بن لادن کی موت کو معروضی رنگ میں ہی پیش کیا ہے۔ ان کے بقول پاکستانی اخبارات میں نہ تو اس واقعے کو کسی سانحے کے طور پر دکھایا گیا ہے اور نہ ہی اسی کوئی بڑی فتح قرار دیا گیا ہے۔

عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں انگریزی اخبارات دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے امریکی پالیسی کے قدرے حامی تصور کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان کے انگریزی اخباروں نے بھی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کی رپورٹنگ میں معروضی انداز اپنایا ہے اور انہوں نے مغربی اخبارات کی طرح جشن منانے کا سا انداز نہیں اپنایا۔

عبداللہ طارق سہیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ حکومتی پالیسی اور دانشوروں کی آراء کے برعکس رائے عامہ کے ایک بڑے حصے میں اسامہ بن لادن کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے بڑے اخبارات نے اس مسئلے پر بہت محتاط رپورٹنگ کی ہے۔


رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس