1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کی موت: افغانوں کی اکثریت کی طرف سے خیر مقدم

افغانستان میں کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے کے نتائج کے مطابق دو تہائی سے زیادہ افغان باشندوں کی رائے میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت ان کے جنگ سے تباہ حال ملک کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

default

تاہم اس سروے کے دوران افغان عوام کی اکثریت نے دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بڑی متنوع رائے ظاہر کی۔ اس جائزے کے دوران افغانستان کے مختلف حصوں سے حاصل کی گئی عام شہریوں کی رائے میں جواب دہندگان نے کہا کہ دو مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ایک آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت ایک بہتر پیش رفت ہے۔

Flash-Galerie Stimmung in Afghanistan

عسکریت پسندوں کی کارروائیاں افغانستان کے مختلف حصوں میں جاری ہیں

اس جائزے کے دوران سلامتی اور ترقی سے متعلق بین الاقوامی کونسل ICOS کی طرف سے 600 افغان مردوں کے انٹرویو لیے گئے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان کی مرد آبادی کے نمائندہ شہریوں سے یہ انٹرویو بدامنی کے شکار افغان صوبے قندھار، مقابلتا پرامن صوبے پنج شیر اور ملکی دارالحکومت کابل میں مقامی یونیورسٹی کے علاوہ تین دیگر مقامات پر لیے گئے۔

اس سروے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ افغانستان میں عام مرد شہری اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر اس پس منظر میں کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن کا ایک بڑا مقصد القاعدہ کے اس رہنما کی گرفتاری یا ہلاکت بھی تھا۔ بن لادن کی موت کے بعد افغانستان میں فوری طور پر یہ مطالبات بھی زیادہ سننے میں آنے لگے ہیں کہ امریکہ کو اپنے قریب دس سالہ فوجی مشن کے بعد اب افغانستان سے جلد از جلد نکل جانا چاہیے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 68 فیصد جواب دہندگان نے بن لادن کی موت کا خیر مقدم کیا جسے اس کے ساتھیوں سمیت افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے 1996 سے لے کر سن2001 تک اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔

ICOS کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وادیء پنج شیر کے ایک انیس سالہ نوجوان نے کہا کہ وہ خوش ہے کہ اسامہ بن لادن مارا گیا کیونکہ اس نے احمد شاہ مسعود کو قتل کروایا تھا، پنج شیر کے اس نوجوان نے جس افغان رہنما احمد شاہ مسعود کا حوالہ دیا وہ طالبان کے خلاف جدوجہد کرنے والا ایک اہم سیاسی رہنما تھا۔ جسےسن 2001 میں گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں سے صرف دو روز پہلے ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس جائزے کے دوران افغان باشندوں نے بن لادن کی موت کے حوالے سے جن متنوع خیالات کا اظہار کیا ان میں مرجاہ کے علاقے میں بن لادن کی موت کو ایک بری خبر قرار دیا گیا ۔ جنوبی افغان صوبے ہلمند میں مرجاہ کو طالبان کے مرکز اور منشیات کے تاجروں کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے جہاں انٹرویو دینے والے اکہتر فیصد افراد نے بن لادن کی موت کوایک بری خبر قرار دیا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس