1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن کہاں ہیں؟ CIA کا دعویٰ اور پاکستانی تردید

امریکہ کی مرکزی تفتیشی ایجنسی کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے بقول انہیں یقین ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سرحدی قبائلی علاقے میں روپوش ہیں۔

default

وقفے وقفے سے اسامہ بن لادن کے آڈیو یا ویڈیو پیغامات سامنے آتے رہتے ہیں

پنیٹا نے امریکی کانگریس میں اپنے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کی افواج مشترکہ اقدامات اور کارروائیوں کے ذریعے بن لادن کو ڈھونڈ نکالیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں آخری اطلاع یہی تھی کہ وہ پاکستان ہی میں قبائلی علاقے کے کسی حصے میں موجود ہیں۔

CIA کے سربراہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنا امریکہ کی بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ ’’ہمیں امید ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے پیش قدمی اور مشترکہ اقدامات سے اسامہ بن لادن کو دھونڈ نکالنے میں کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔‘‘

Leon Panetta نے کہا کہ امریکہ کی سلامتی کے لئے القاعدہ اب بھی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کے بقول القاعدہ آج بھی امریکہ یا امریکی قیادت پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کئی افراد ان کے ادارے کو القاعدہ اور اس کی کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ پنیٹا نے یہ بھی کہا کہ صومالیہ اور یمن مستقبل میں القاعدہ کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے اسامہ بن لادن کی پاکستانی قبائلی علاقوں میں ممکنہ موجودگی کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان دعووں کو مسترد کیا اور کہا کہ اگر امریکی CIA کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم ہے تو اسی امریکی ادارے کو بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ بھی ہونا چاہئے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق لیون پنیٹا کے بن لادن کے حوالے سے اس بیان میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک