1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’بن لادن‘‘ کو ترک کرنے کا فیصلہ

یورپیئن سنٹرل بینک نے کہا ہے کہ وہ 500 یورو کا نوٹ چھاپنا اور اس کا اجراء روک دے گا۔ ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ نوٹ منی لانڈرنگ اور یہاں تک کہ دہشت گردی کے لیے سرمائے کاری کے لیے مجرموں میں مقبول ہے۔

500 یورو کے نوٹ کی مالیت 60 ہزار پاکستانی روپوں جبکہ 580 امریکی ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔ اس نوٹ کا اجراء 2018ء کے آخر تک روک دیا جائے گا تاہم گردش میں موجود نوٹ کارآمد رہیں گے۔

یورپی مرکزی بینک کے مطابق موجودہ نوٹوں کو یورو زون کی ریاستوں کے سینٹرل بینکوں سے غیر معینہ مدت تک تبدیل کرایا جا سکتا ہے۔ ای سی بی کے مطابق اس کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کا یہ فیصلہ دراصل ’’ایسے خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے جن کے مطابق یہ بینک نوٹ غیر قانونی کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

مشترکہ کرنسی زون میں مروجہ یہ سب سے بڑی مالیت کا بینک نوٹ دراصل دنیا کا دوسرا سب سے بڑی مالیت والا نوٹ بھی ہے۔ سب سے زیادہ مالیت کا نوٹ 1000 سوئس فرانک کا نوٹ ہے جس کی مالیت 1045 ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔

یہ کرنسی نوٹ سائز میں بھی دیگر پانچ یورو کرنسی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے۔ اس لیے یہ یقین کیا جاتا ہے کہ مجرمانہ کارروائیاں کرنے والوں میں یہ کرنسی نوٹ بہت زیادہ مقبول ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ بڑی بڑی رقوم حکام کے علم میں آئے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔

500 یورو کے نوٹوں کی مالیت گردش میں موجود کُل نوٹوں کی مجموعی مالیت کا 28 فیصد بنتی ہے

500 یورو کے نوٹوں کی مالیت گردش میں موجود کُل نوٹوں کی مجموعی مالیت کا 28 فیصد بنتی ہے

500 یورو کے نوٹوں کی صورت میں رقوم کی منتقلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان نوٹوں کی صورت میں ایک ملین یورو کا وزن محض 2.2 کلوگرام بنتا ہے اور اتنی بڑی رقم کو ایک لیپ ٹاپ بیگ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر یہی رقم 50 یورو کے نوٹوں کی صورت میں ہو تو اس کا وزن 22 کلوگرام بنتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ اسٹڈی کے مطابق، ’’اس طرح کے کرنسی نوٹ دراصل غیر قانونی کارروائیوں کے لیے رقوم کی ادائیگی کا مقبول ترین طریقہ ہیں کیونکہ اس طرح ایک طرف تو رقوم فراہم یا وصول کرنے والوں کی شناخت خفیہ رہتی ہے اور دوسری طرف ان کی منتقلی کا عمل بھی نظروں میں نہیں آتا کیونکہ ایسے نوٹوں پر مشتمل بڑی رقوم کو با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس اسٹڈی کے مطابق اپنے سائز اور منتقلی میں آسانی کے باعث 500 یورو کا نوٹ زیر زمین سرگرمیوں کی ادائیگیوں کے لیے اس حد تک مقبول ہو چکا ہے کہ اسے اس کی اصل قیمت سے بھی زیادہ پر خریدا یا فروخت کیا جاتا ہے اور بعض حلقوں میں اسے ’بِن لادن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘

یورپی مرکزی بینک کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں موجود 500 یورو کے نوٹوں کی تعداد کُل کرنسی نوٹوں کا محض تین فیصد ہے مگر ان کی مالیت گردش میں موجود کُل نوٹوں کی مجموعی مالیت کا 28 فیصد بنتی ہے۔