1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'بن لادن کا ایک خاندان، ایران میں نظر بند'

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایک بیوی اور چھ بچے ایران میں نظر بند ہیں۔ یہ خاندان 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت سے لاپتہ تھا۔

default

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن

اس خاندان کے بارے میں اب یہ خبر دبئی کے ا‌خبار نے اسی خاندان کے ایک فرد کے حوالے سے جاری کی ہے۔ بن لادن کے ایک انتیس سالہ بیٹے عمر بن لادن نے دبئی سے شائع ہونے والے سعودی روزنامہ الشرق الاوسط کو بتایا، 'ایک ماہ قبل تک معلوم نہیں تھا کہ ہمارے بہن بھائی کہاں ہیں۔'

عمر بن لادن قطر میں رہائش پذیر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اپنے خاندان کے افراد کے زندہ ہونے کا پتہ اس وقت چلا، جب اس کے بھائی عثمان نے ایران سے اسے فون کیا۔ اس نے بتایا کہ تہران میں نظربند اس کے بہن بھائیوں میں انتیس سالہ سعد، پچیس سالہ عثمان، بائیس سالہ فاطمہ، بیس سالہ حمزہ اور پندرہ سالہ بکر شامل ہے، جن کے ساتھ اس کی والدہ خیریا بھی ہے۔ عمر کے مطابق سترہ سالہ ایمان نے تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں پناہ لی ہوئی ہے۔

عمر کے بھائی سعد کے بارے میں افواہ تھی کہ وہ اٹھارہ ماہ قبل پاکستان کے قبائلی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

Omar Osama bin Laden und seine Frau Jane Felix-Brown

عمر بن لادن اپنی اہلیہ کے ساتھ

برطانوی روزنامہ 'دی ٹائمز' کے مطابق اسامہ بن لادن کے گیارہ بچے تہران کے ایک نواحی علاقے میں سخت سیکیورٹی میں رہائش پذیر ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے افغانستان پر امریکی حملے سے قبل ایران کا رُخ کیا تاہم سرحد پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

عمر کا کہنا ہے، 'ایرانی حکومت نہیں جانتی تھی کہ ان لوگوں کا کیا کرے، جنہیں کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اسی لئے انہیں محفوظ رکھا گیا، جس کے لئے ہم ان کے احسان مند ہیں۔'

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بن لادن کا یہ خاندان معمول کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ کھانا پکاتے ہیں، ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں تاہم انہیں خریداری کے لئے جانے کا موقع کبھی کبھی ہی ملتا ہے۔ ایک دن جب وہ شاپنگ کے لئے گئے تو سترہ سالہ بہن ایمان کو فرار ہو کر سعودی سفارت خانے پہنچنے کا موقع مل گیا۔

روزنامہ الشرق الاوسط کے مطابق تہران میں سعودی سفارت خانے نے ایمان کی وہاں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ وہ ایران چھوڑنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

عمر کا کہنا ہے کہ اس کے مزید پانچ بہن بھائی سعودی عرب میں ہیں جبکہ تین اس کے والد کی ایک اور بیوی نجوہ کے ساتھ شام میں ہیں۔ اس نے اُمید ظاہر کی کہ تہران میں موجود اس کے خاندان کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سب ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور باپ کے گناہوں کی سزا بچوں کو نہیں ملنی چاہئے۔

اسامہ بن لادن کی عمر پچاس برس سے زائد ہے۔ اس کے بارے میں افواہ ہے کہ اس کی صحت اچھی نہیں ہے۔ وہ انتہائی مطلوب ہے اور اس کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر مقرر کی جا چکی ہے۔ خیال ہے کہ بن لادن پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں روپوش ہے تاہم اسلام آباد حکام القاعدہ قیادت کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے بارہا انکار کر چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM