1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن لادن اور حرکت المجاہدین کے تعلقات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک سینئر امریکی افسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملے ایک موبائل فون میں جو کانٹیکٹس ہیں وہ بن لادن اور پاکستانی شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین کے تعلقات ثابت کرتے ہیں۔

default

دائیں سے بائیں: آئی اسی آئی کے سربراہ شجاع پاشا اور پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں نام لیے بغیر ایک سینئر امریکی عہدیدار اور بعض ذرائع کے حوالے دیتے ہوئےکہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے امریکی اسپیشل فورسز نے جو مواد حاصل کیا تھا اس میں ایک موبائل فون بھی ہے جس کے کانٹیکٹس میں حرکت المجاہدین سے تعلق رکھنے والوں کے بھی رابطے ہیں۔ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ حوکت المجاہدین کو پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ترجما ن کی جانب سے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ پر کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

Schlafzimmer Osama Bin Laden

ایبٹ آباد میں بن لادن کے گھر کا وہ کمرہ جہاں اسے ہلاک کیا گیا تھا

پاکستانی حکومت اور آئی ایس آئی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے کسی بھی نوعیت کے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ بن لادن کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فورسز نے دو مئی کو ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا تھا۔

نیویارک ٹائمز اپنی رپورٹ میں امریکی افسر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ امریکی ماہرین یہ طے کر پائے ہیں کہ حرکت المجاہدین کے کمانڈرز نے پاکستانی خفیہ ادارے کے افسران سے رابطے کیے تھے تاہم یہ ضروری نہیں کہ آئی ایس آئی اسامہ بن لادن کو تحفظ دے رہی ہو۔ رپورٹ کے مطابق یہ ممکن ہے کہ حرکت المجاہدین پاکستان میں بن لادن کا سکیورٹی نیٹ ورک ہو۔

امریکی افسر کے مطابق موبائل فون کا تجزیہ اس بات کو طے کرنے میں ایک زبردست پیش رفت ہے کہ بن لادن پاکستانی خفیہ اداروں کی نظروں سے اوجھل ہو کر کس طرح کئی برسوں سے ابیٹ آباد میں رہ رہا تھا۔ اخبار نے حرکت المجاہدین پر مہارت رکھنے والے افراد کے حوالے سے لکھا کہ حرکت المجاہدین کے القاعدہ اور پاکستانی خفیہ اداروں دونوں ہی سے تعلقات ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM