1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بن غازی پر نئی ہالی ووڈ فلم ریلیز سے پہلے متنازعہ

ہالی ووڈ کے معروف فلم ہدایتکار مائیکل بے کی فلم ’تھرٹین آورز: دی سکریٹ سولجرز آف بن غازی‘ آئندہ برس ریلیز ہونے سے پہلے ہی بہت متنازعہ بن گئی ہے۔

یہ فلم بن غازی میں سرکاری اہلکاروں اور اس شہر کے رہائشیوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ بن غازی لیبیا کا دوسرا سب سے بڑے شہر ہے اور طویل عرصے تک حکمران رہنے والے آمر معمر قذافی کے خلاف بغاوت بھی اسی شہر سے شروع ہوئی تھی۔

اس ہالی ووڈ تھرلر ڈرامہ فلم کا ٹریلر جاری کردیا گیا ہے۔ ہدایتکار مائیکل بے کی فلم تھر ٹین آور، دی سیکریٹ سولجر آف بن غازی کی کہانی لیبیا میں قتل ہونے والے امریکی سفیر کی کہانی ہے، جس میں سکیو رٹی پر مامور اہلکار دہشتگردوں سے لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ فلم کی کاسٹ میں جیمز بیج، جون کراسنسکی، میکس مارٹن، ٹوبی اسٹیفنس اور ڈیوڈ ڈینمین کے علاوہ دیگر اداکار شامل ہیں۔ تھرلرڈرامہ فلم تھرٹین آور، دی سیکریٹ سولجر آف بن غازی آئندہ سال پندرہ جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

Libyen Soldat in Bengasi

اس فلم میں سابق فوج کے سکیورٹی کنٹریکٹرز کے ایک گروپ کو دکھایا گیا ہے

لیبیا کے سوشل میڈیا میں اس فلم کے ٹریلر نے ہی خاصہ تھلکا مچایا۔ بن غازی کے مقامی باشندے اور وہاں کے اہلکار ہدایتکار مائیکل بے سے بہت برہم ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے یہ فلم شمالی افریقی قوم کی تضحیک ہے۔ لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان صلاح بلنبا کا اس فلم کے بارے میں کہنا ہے،’’ بن غازی کے باشندے ہمیشہ سے عالمی برادری کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم بے کی فلم یہ تاثر دیتی ہے کہ یہ عوام مذہبی جنون اور جاہلیت کا شکار ہیں‘‘۔

اس فلم میں سابق فوج کے سکیورٹی کنٹریکٹرز کے ایک گروپ کو دکھایا گیا ہے، جو بن غازی کے صحرائی، ریتیلے شہر میں امریکیوں کی جان بچانے کا کام انجام دیتا ہے۔ فلم کے ٹریلر میں ان کنٹریکٹرز کو بن غازی شہر میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے۔ یہ سین بہت تیزی سے بلتا ہے اور بن غازی میں دھماکے اور بندوق بردار عسکریت پسند اور جنگ کے لیے تیا ہونے والے امریکیوں کو دکھایا گیا ہے۔

Lybien US Konsulat in Bengasi nach dem Angriff 2012

2012 ء میں حملے کے بعد بن غازی میں قائم امریکی قونصل خانے کی شکل

بن غازی کا ایک شہری محمد کاویری نے اپنے فیس پوسٹ میں تحریر کیا ہے،’’ہم امریکا کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنی فلم انڈسٹری کے ذریعے ہمیں بدنام کرے‘‘۔ اس پوسٹ کو سینکڑوں فیس بُک صارفین کے ساتھ شیئر کیا گیا اور ان سب نے اس ’سستی شہرت والی‘ ہالی وڈ فلم کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔

اس فلم میں ان کنٹریکٹرز کو ہیرو دکھایا گیا ہے، جو سفیر کی جان بچانے میں ناکام رہے۔ یہ کہنا ہے لیبیا کے وزیر برائے ثقافتی امور عمر غاواری کا۔ ابن کے بقول،’’یہ امریکی ہیرو ازم کی تشہیر کی مخصوص ایکشن فلم ہے‘‘۔

DW.COM