1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بن علی کو پینتیس سال کی سزا

تیونس کی ایک عدالت نے سابق صدر زین العابدین بن علی کو غیر حاضری میں پینتیس برس کی سزا سنا دی ہے۔

default

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی

تیونس میں عوامی بغاوت اور مظاہروں کے نتیجے میں سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ان کے سعودی عرب فرار ہو جانے کے بعد ان کی غیر حاضری میں تیونس کی عدالت نے انہیں پینتیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

Ben Ali Prozess Tunesien.jpg

بن علی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج

بن علی پر غیر قانونی زیور اور بھاری نقد رقم رکھنے کا الزام تھا۔ عدالت نے بن علی کی اہلیہ کو بھی اتنی ہی سزا سنائی ہے۔

بن علی اپنے تئیس سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد اپنی اہلیہ کے ہمراہ چودہ جنوری کو سعودی عرب چلے گئے تھے، جہاں وہ پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔

تیونس کے عوامی مظاہروں نے عرب ممالک میں جمہورت اور سیاسی و معاشی اصلاحات کے حصول کے لیے تحریکوں کو جنم دیا جنہیں ’عرب اسپرنگ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ تیونس کے بعد مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کو عوامی مظاہروں کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے۔ مبارک پر قاہرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ بحرین، شام، یمن اور لیبیا میں بھی مطلق العنان حکمرانوں کو عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔

NO FLASH Muammar Gaddafi

انقلاب سے پہلے: (بائیں سے دائیں) بن علی، یمنی صدر علی عبدااللہ صالح، لیبیا کے رہنما معمر قذافی اور سابق مصری صدر حسنی مبارک

ادھر بن علی کے اٹارنی نے تیونس کی عدالت کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ایک مذاق ہے۔ آپ مذاق کا بدلہ نہیں لیتے۔ آپ صرف اس پہ ہنس سکتے ہیں۔‘‘

تیونس کے سابق صدر پر ایک دوسرے مقدمے کی سماعت تیس جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ مقدمہ بن علی پر اسلحہ اور منشیات رکھنے کے الزام کے حوالے سے چلایا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ بن علی اپنے اوپر عائد تمام الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM