بنگلہ دیش: ہندو پنڈت کا قتل، تین جہادی مسلمان گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 26.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: ہندو پنڈت کا قتل، تین جہادی مسلمان گرفتار

بنگلہ دیشی حکومت نے ایک اعلیٰ مذہبی عہدے پر فائز ہندو پنڈت کے قتل کے الزم میں مزید تین جہادیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ چند ماہ سے بنگلہ دیش میں غیرمسلم اقلیتوں کے خلاف پے در پے حملے جاری ہیں۔

بنگلہ دیشی پولیس نے کالعدم جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) کے مزید تین کارکن گرفتار کر لیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کو بنگلہ دیش کے شمالی ضلع پنچھا گڑھ سے گرفتار کیا گیا اور اسی ضلع میں ایک سرکردہ ہندو پنڈت کو قتل کیا گیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے ہتھیار برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

پولیس اس سے پہلے بھی ہندو پنڈت جوگیشور رائے کے قتل کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ اس پنڈت کو گزشتہ اتوار کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا تھا، جب وہ ایک مندر میں موجود تھا۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں حملہ آور پستول اور خنجروں سے مسلح تھے۔

علاقے میں ڈویژنل پولیس کے سربراہ ہمایوں کبیر کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس قتل کے معاملے میں ہم کامیاب تفتیشی عمل کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔‘‘ پولیس سربراہ کے مطابق اس قتل میں مزید دو افراد ملوث ہیں اور ’’ہم بہت جلد ان تک بھی پہنچ جائیں گے۔‘‘

اس سے قبل پولیس نے کالعدم جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش کے دو اور جماعت اسلامی کے ایک کارکن کو گرفتار کیا تھا۔ دوسری جانب جہادی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم ’سائٹ‘ نے داعش کا وہ پیغام بھی جاری کر دیا تھا، جس میں جہادیوں کی طرف سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش ماضی میں بھی بنگلہ دیش میں کی جانے والی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے لیکن ڈھاکا حکومت کا ابھی تک کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں داعش کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

حالیہ کچھ عرصے سے خاص طور پر بنگلہ دیشی اقلیتوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ڈھاکا میں موجودہ سیکولر حکومت کی سربراہ اور ملکی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے مطابق ان حملوں کے پیچھے کالعدم جے ایم بی کے علاوہ دیگر مقامی عسکری گروہوں اور اپوزیشن سیاسی پارٹیوں کا ہاتھ ہے اور یہ سبھی ملک کو غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کا طویل ہوتا ہوا سیاسی بحران مخالفین کو شدت پسندی کی طرف لے کر جا رہا ہے اور اس طرح شدت پسندی کی طرف رجحان رکھنے والے اسلامی گروپ بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

مجموعی طور پر 160 ملین کی آبادی والے بنگلہ دیش میں دس فیصد تناسب کے ساتھ ہندو ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔