1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: ہم جنس پرستوں کے حقوق کے علم بردار کا بہیمانہ قتل

پولیس اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں نا معلوم حملہ آوروں نے دو افراد کو، جن میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے علمبردار ایک جریدے کا مدیر بھی شامل تھا، چاقوؤں کے وار کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

Bangladesch Blogger Washiqur Rahman ermordet s/w

بنگلہ دیش میں اب تک متعدد بلاگرز کو اسی طرح بہیمانہ طرییقے سے قتل کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو)

ڈھاکا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پولیس افسر ریاض الاسلام نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم پانچ افراد بنگلہ دیشی دارالحکومت میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے علمبردار جریدے کے ایڈیٹر سلہاز منان کی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں داخل ہوئے۔ ان افراد نے ایسی یونیفارمز پہنی ہوئی تھیں، جن سے لگتا تھا کہ وہ کسی کوریئر سروس کے لیے کام کرتے ہیں۔

ان نامعلوم حملہ آوروں نے سلہاز منان کے ساتھ ساتھ اُس کے ایک دوست تنوئے موجمدار کو بھی ہلاک کر دیا اور ساتھ ساتھ سکیورٹی گارڈز پر بھی چاقوؤں سے حملے کیے۔ ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منان امریکی ایمبیسی کا ملازم تھا۔

پرائیویٹ براڈکاسٹر سوموئے ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ منان ’رُوپ بان‘ نامی جریدے کا مدیر تھا۔ یہ بنگلہ دیش کا پہلا جریدہ ہے، جو ہم جنس پرست مرد و زن اور مخنث افراد کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔

اس سے پہلے 2015ء میں دو بلاگرز نیلوئے نیل اور ابیجیت روئے کو اسی انداز میں مشتبہ مسلمان انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جنہوں نے مکتومونا ویب سائٹ پر اس جریدے کو سراہا تھا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق کالابنگن پولیس اسٹیشن میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس افسر حبیب الرحمان نے رپورٹرز کو بتایا کہ منان سابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ دیپو مونی کا کزن تھا۔ حبیب الرحمان نے بتایا کہ حملہ آور نیلے رنگ کی شرٹس پہنے ہوئے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں بیگ تھے۔

Symbolbild Bangladesch Verhaftung nach Ermordung von US-Blogger

مکتومونا ویب سائٹ کے بانی بنگلوہ دیشی نژاد امریکی بلاگر ابیجیت روئے کو بھی اسی طرح موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا

تاحال کسی بھی گروپ نے اس واردات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعے سے دو ہی روز پہلے شمالی بنگلہ دیش کے شہر راجشاہی میں ایک یونیورسٹی پروفیسر کو بھی اس انداز میں چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے کی ذمہ داری انتہا پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی تھی۔

امریکی سفیر مرسیا بیرنیکیٹ نے ایک بیان میں سلہاز منان کے قتل کی مذمت کی ہے اور بنگلہ دیشی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس واردات کے ذمے دار عناصر کو گرفتار کرے۔ اپنے بیان میں خاتون سفیر نے مزید کہا ہے:’’سلہاز ہم سب کے نزدیک ایک دفتری ساتھی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا تھا اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ امریکی ایمبیسی میں وہ ہمارے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ ایک پیارا دوست تھا۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے:’’ہم تشدد کے اس بے معنی اور احمقانہ اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور پُر زور الفاظ میں حکومتِ بنگلہ دیش پر زور دیتے ہیں کہ وہ قتل کے اس واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات