1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیش: گردہ خاتون نے نہیں غربت نے بیچا

برسوں سے قرض میں جکڑی ہوئی بنگلہ دیش کی ایک دیہاتی روشن آرا نے اپنے خاندان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پیسوں کے لیے آخرکار اپنا ایک گردہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا۔

اس غریب دیہی علاقے کلائی میں اپنے باقی پڑوسیوں کی طرح 28 سالہ روشن آرا کو آسانی سے ایک مقامی بروکر مل گیا اور وہ فوراﹰ ہی بنگلہ دیش میں فروغ پانے والی مگر غیر قانونی انسانی اعضاء کی تجارت کا شکار بن گئی۔

آرا نے اپنے بروکر کا نام بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ ’میں غربت سے تنگ آگئی تھی۔ میرے شوہر سالوں سے بیمار ہیں۔ میری بیٹی کی تعلیم مہنگی ہو گئی ہے۔ میں ڈھاکا گئی تا کہ وہاں پر بطورنوکرانی یا کسی گارمنٹ فیکٹری میں کام کروں مگر وہاں پر پیسے بہت کم مل رہے تھے۔‘

مقامی پولیس کے چیف سراج الاسلام نے خبر رساں ادارے اےایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اس سال صرف کلائی تحصیل میں 40 لوگوں نے اپنے گردے بیچے ہیں جبکہ 2005 سے اب تک 200 دیہاتی اپنے گردے بیچ چکے ہیں۔‘

Organhandel in Pakistan - Arme verkaufen ihre Nieren

جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک میں بھی گردوں کی غیرقانونی تجارت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

سراج الاسلام نے مزید بتایا، ’جو لوگ اپنے گردے بیچ چکے ہیں اب وہ خود بروکرز یا ایجنٹس بن کر انسانی اعضاء کی تجارت کے اس بڑے نیٹ ورک کا حصہ بن گئے ہیں اور ان کا پہلا ہدف ان کا اپنا خاندان اور رشتہ دار ہوتے ہیں اور پھر بعد میں دیگر دیہاتی۔‘

قریب 8 ملین بنگلہ دیشی اس وقت گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں، جس کی بڑی وجہ ذیابیطس ہے اور کم ازکم 2000 لوگوں کو سالانہ بنیادوں پرگردوں کے پیوندکاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن قانونی طور پر گردہ عطیہ کرنا صرف خاندان والوں کے بیچ ہوسکتا ہے۔

گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر مستفیض الرحمن نے کہا، ’ایسے گروہ کے پیچھے بااثر افراد موجود ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آسانی سے تمام کاغذات تیارکرسکتے ہیں، جس میں جعلی پاسپورٹ اور جعلی شناختی کارڈ بھی شامل ہوتا ہے جو کہ غیر قانونی ٹرانسپلانٹ میں مدد دیتے ہیں۔

آرا کہتی ہیں، ’ان نا معلوم افراد نے میرا نام نشی اکتر رکھا تاکہ میں اس کی کزن کے طور پر سفر کر سکوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ انڈین ڈاکٹروں کو قائل کرنے کے لیے ایسا ضروری تھا۔‘

'آپریشن کے دن میں بہت ڈری ہوئی تھی اور اللہ سے بار بار دعائیں مانگ رہی تھی۔‘

آرا کو ایک گردے کے بدلے 4500 ڈالرز ملے جس سے اس نے کاشت کے لیے زمین کرائے پر لی اور اپنی بیٹی کو پڑھانے کے لیے استاد رکھے جو کہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔

لیکن یہ پیسہ اس نے اپنی اچھی صحت کے بدلے لیا کیونکہ اب وہ زیادہ کام نہیں کر پاتی۔ جلدی تھک جاتی ہیں اور انھیں اب اکثر سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ آرا نے کہا، ’گردہ بیچنا ایک بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اب مجھے صحت مند رہنے کے لیے مہنگی دوائیوں کی ضرورت ہے۔‘

مشی گن اسٹیٹ یو نیورسٹی کے منیر الزمان منیر جنہوں نے کلائی میں گردہ عطیہ کرنے والوں پر وسیع ریسرچ کی ہے کہتے ہیں، ’گردہ بیچنے والوں کو یہ لوگ بہت آسانی سے قائل کر سکتے ہیں یہ کہہ کر کہ ایک گردہ دینے سے آپ کا کچھ بھی نہیں جائے گا۔ اور وہ خود کو ان کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘

پچھلے مہینے پولیس نے کلائی اور ڈھاکا میں اس تجارت میں ملوث درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن منیرالزمان کہتے ہیں، ’ان کے خلاف مقدمات بہت سست رفتاری سے چل رہے ہیں اور جب تک ان لوگوں کو عبرت ناک سزا نہ دی جائے تب تک یہ تجارت بند نہیں ہوسکتی۔‘