1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش کی تاریخ میں بد ترین لینڈ سلائیڈنگ، 145افراد ہلاک

 بنگلہ دیش کی تاریخ میں زمینی تودے گرنے سے ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی تباہی میں ایک سو پینتالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امدادی کارکنوں کو بارشوں سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Bangladesch Brandstiftung im Rangamati Distrikt (Anvil Chakma)

زمینی تودوں کے گرنے کے نتیجے میں ہونے والی حالیہ تباہی سن 2007 میں ہوئی بربادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوئی ہے

بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق پہاڑی علاقوں میں قائم بہت سے مکانات زمینی تودوں کے نیچے دب چکے ہیں۔ ایک بیان کے مطابق بہت سے شہری مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں تاہم بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عملے کی کمی کی وجہ سے اُن تک جلد پہنچنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے اب تک 145 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔

لینڈ سلائیڈنگ سے بری طرح متاثر بعض علاقوں کی ٹی وی فوٹیج میں رہائشیوں کو بیلچوں کے ذریعے مٹی کھود کر لاشیں نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی تودے اُس وقت گھروں پر آ گرے تھے جب منگل کی صبح ان دیہاتوں کے باسی ابھی سو رہے تھے۔

بنگلہ دیش میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے محکمے کے سربراہ ریاض احمد کا کہنا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کی بد ترین لینڈ سلائیڈنگ ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ مون سون بارشوں کے نتیجے میں زمینی  تودے گرنے سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلعے رنگا متی میں امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ منگل کے روز انہوں نے مٹی کے نیچے دبے ہوئے اٹھارہ افراد کو باہر نکالا ہے تاہم افرادی قوت کی کمی کے باعث تمام علاقوں تک پہنچنا اُن کے لیے ممکن نہیں۔

بنگلہ دیش کی فوج کے ایک بیان کے مطابق فوجی دستے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ روز امدادی کارروائیوں کے دوران چار بنگلہ دیشی فوجی ایک تودے کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک فوجی تاحال لاپتہ ہے۔

بارشوں اور زمینی تودوں کے گرنے کے نتیجے میں ہونے والی حالیہ تباہی سن 2007 میں ہوئی بربادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوئی ہے۔ سن 2007 میں چٹا گانگ میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں 127 اموات ہوئی تھیں۔

DW.COM