1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بنگلہ دیش کی بے باک حسینہ آج کیوں مکمل نقاب میں؟

بنگلہ دیش میں ایک بائیس سالہ اداکارہ نے اپنے حلیے کو بالکل ہی تبدیل کر لیا ہے۔ یہ اداکارہ سن 2013 میں بنگلہ دیش کی ایک فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بعد شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئی تھیں۔

ہیپی نامی اس اداکارہ نے اب اپنا نام تبدیل کر کے ’اماتاللہ‘ رکھ لیا ہے۔ اس نوجوان اداکارہ کی زندگی پر ایک کتاب بھی لکھی گئی ہے جس کی ہزاروں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس کتاب کو شائع کرنے والے پبلشنگ ہاؤس متکب الاظہر کے مالک کا کہنا ہے،’’ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس اداکارہ نے شان و شوکت اور شہرت کی زندگی کو چھوڑ کر کیوں ایک مذہبی زندگی اپنائی۔‘‘

سن 2014 میں یہ اداکارہ ذرائع ابلاغ کا مرکزی موضوع بنی رہيں۔ اس اداکارہ نے الزام عائد کیا تھا کہ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے ايک کھلاڑی روبیل حسین نے اسے ریپ کیا ہے۔ یہ خبر بنگلہ دیش جیسے قدامت پسند معاشرے میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ اس کیس کی تحقیقات بھی کرائی گئی تھیں اور عدالت نے روبیل حسین کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔

اس حسین اداکارہ کو جب بنگلہ دیشی عوام نے مکمل برقعے میں دیکھا تو وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ تبدیلی کیسے آئی۔ اماتاللہ کی زندگی پر کتاب کو عبداللہ ال فارق اور ان کی اہلیہ نے تحریر کیا ہے۔ عبداللہ ال فارق کا کہنا ہے،’’روبیل کے اسکینڈل سے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے اس اداکارہ نے ایک نئی فلم میں کام کا آغاز کیا تھا اور اسی دوران ایک رات اس نے اپنی زندگی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ ال فاروق نے بتایا،’’ ایک رات ہیپی نے فیس بک سے تمام تصاویر کو ڈیلیٹ کر دیا اور فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ اس نے اپنا نام اماتاللہ رکھ لیا اور مکمل پردہ کرنا شروع کر دیا۔‘‘ اس کتاب میں اماتاللہ کہتی ہے کہ اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کا دوبارہ جنم ہوا ہے۔

مبصرین کی رائے میں بنگلہ دیش اب اعتدال پسند اسلام سے دور ہو گیا ہے۔ اب اس ملک میں  قدامت پسند مذہب  کو اپنایا جا رہا ہے اور ہیپی سے اماتاللہ کا سفر اسی تبدیلی کا عکاس ہے۔ برقعہ جو افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں عام ہے اب بنگلہ دیش میں بھی اس کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ ال فارق کے مطابق اماتاللہ کا اپنی ماضی کی زندگی کے بارے میں کہنا ہے، ’’میں دوبارہ جہنم کی آگ میں قدم نہیں رکھنا چاہتی۔‘‘

DW.COM