1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: کیا اب جماعت اسلامی کے امیر کی باری ہے؟

بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ انہیں 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت مختلف جرائم کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کی طرف سے مطیع الرحمان کی اپیل خارج کیے جانے کے بعد ان کی سزائے موت پر عملدرآمد چند ماہ کے اندر ہو سکتا ہے۔ نظامی کو بنگلہ دیش کے متنازعہ جنگی جرائم کے ٹریبونل کی طرف سے 1971ء میں پاکستان سے علیحدگی کے وقت قتل، جنسی زیادتی اور ملک کے اعلٰی ذی فہم افراد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔

استغاثہ کے وکیل تورین افروز کے مطابق، ’’عدالت نے چار میں سے تین الزامات کے تحت سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم بہت خوش ہیں۔‘‘ رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے افروز کا مزید کہنا تھا، ’’خاص بات یہ ہے کہ ذی فہم افراد کے قتل کے الزام میں عدالت نے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔‘‘

72 سالہ مطیع الرحمان نظامی بنگلہ دیش میں سن 2000ء سے جماعت اسلامی کے سربراہ ہیں۔ وہ 2001ء سے 2006ء تک بطور حکومت کی اتحادی جماعت ملکی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اگر ان کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت نہیں ہوتی یا پھر انہیں ملکی صدر کی طرف سے معافی نہیں ملتی تو انہیں آئندہ چند ماہ میں پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے۔

دسمبر 2013ء سے اب تک جنگی جرائم کے متنازعہ ٹریبونل کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے والے جماعت اسلامی کے تین سینیئر رہنماؤں اور ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے ایک اہم رہنما کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ آخری پھانسی گزشتہ برس نومبر میں دی گئی۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی دیے جانے کے بعد ہنگاموں میں قریب 500 افراد ہلاک ہوئے تھے

جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی دیے جانے کے بعد ہنگاموں میں قریب 500 افراد ہلاک ہوئے تھے

نظامی کی سزائے موت برقرار رکھے جانے کی خبر پر ڈھاکا کے مرکزی اسکوئر پر ان سینکڑوں سیکولر مظاہرین نے جشن منایا جو جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف 1971ء میں جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمات کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کی طرف سے آج بدھ چھ جنوری کو سنائے جانے والے فیصلے کے تناظر میں ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ کیونکہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو قبل ازیں جب سزائے موت دی گئی تھی تو ملک میں آزادی کے بعد سے بد ترین ہنگامے ہوئے تھے جن میں قریب 500 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فیصلے سے قبل ڈھاکا کے ڈپٹی پولیس کمشنر معروف حسین سردار نے اے ایف پی کو بتایا تھا، ’’ہم نے سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ کسی بھی تشدد سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔‘‘

دوسری طرف مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کیے جانے کے بعد جماعت اسلامی نے کل جمعرات سات جنوری کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔