1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بنگلہ دیش کا ’ٹری مین‘ اپنے علاج کے لیے پرعزم

بنگلہ دیشی شہری ابول بازوندر کو اپنی گومڑیوں کی نشوونما روکنے کے لیے مزید کئی آپریشن کرانے کی ضرورت ہے۔ اسے پیروں اور ہاتھوں پر درخت کی شاخوں جیسی ساخت والی جڑوں کی نشوونما کی وجہ سے ’ٹری مین‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈائریکٹر سمنتا لال سین کا کہنا ہے کہ ابول بازوندر Abul Bajandar کے جسم پر گومڑیوں یا Warts کی نشوونما بہت تیزی سے ہو رہی ہے اور ان کے مکمل خاتمے کے لیے اس کے کئی آپریشن کرنا پڑیں گے۔

ہفتے کے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بازوندر کے دائیں ہاتھ پر گومڑیوں کی نشوونما کو روکنے کے لیے کامیاب سرجری کی۔ یہ اپنی نوعیت کی دوسری سرجری تھی، جس میں بازوندر کے کچھ ’وارٹس‘ کاٹ دیے گئے تھے۔

چھبیس سالہ بازوندر کو گزشتہ ماہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاکہ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر نکلنے والی شاخوں والی گومڑیوں کو کاٹنے کا عمل شروع کیا جا سکے۔ دس برس قبل وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا تھا اور اب اس کے جسم پر ان گومڑیوں کا وزن پانچ کلوگرام تک پہنچ چکا ہے۔

ڈاکٹر سین نے اتوار اٹھائیس فروری کے روز اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے بازوندر کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے کچھ وارٹس کو کاٹا ہے۔ ہم نے اس کی انگلیوں کا علاج بھی کیا ہے۔ اب اس کا دایاں ہاتھ کچھ بہتر ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے اس پیچیدہ بیماری کے علاج میں مزید وقت لگنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بازوندر کو کم از کم مزید پندرہ آپریشن کرانا پڑیں گے۔ ڈاکٹر سین کے مطابق اس کے مکمل علاج میں چھ ماہ تا ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ بازوندر بنگلہ دیش کے ضلع کھلنہ کا رہائشی ہے، جو ایک انتہائی کمیاب جینیاتی بیماری epidermodysplasia verruciformis کا مریض ہے۔

ڈاکٹر سین کے مطابق دنیا بھر میں اس بیماری میں مبتلا معلوم مریضوں کی تعداد صرف تین ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے بازوندر کی روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ پرعزم ہے اور اپنا علاج جاری رکھے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔

بازوندر نے اے ایف پی کو بتایا، ’’پہلے آپریشن نے مجھے امید دی ہے۔ میں مکمل علاج سے پہلے اپنے گاؤں واپس نہیں جانا چاہتا۔ میں اپنی معمول کی زندگی بحال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈھاکا حکومت نے اس کا علاج کرانے کا ذمہ اٹھایا ہے اور اس سلسلے میں اسے خود کوئی ادائیگی نہیں کرنا ہو گی۔

اس بیماری کا شکار ہونے سے قبل ابول بازوندر سائیکل رکشہ چلاتا تھا تاہم اب اس کے پیروں اور ہاتھوں پر وارٹس کی نشوونما کے بعد وہ کوئی کام کرنا تو دور کی بات، خود کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔