بنگلہ دیش نے فلپائن سے چوری شُدہ بینک فنڈز واپس مانگ لیے | حالات حاضرہ | DW | 19.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش نے فلپائن سے چوری شُدہ بینک فنڈز واپس مانگ لیے

منیلا میں متعینہ بنگلہ دیشی سفیر نے فلپائن سے کئی ملین ڈالر مالیت کے چوری شُدہ بینک فنڈز واپس مانگ لیے ہیں۔ نامعلوم ہیکرز کی طرف سے ان فنڈز کی چوری کا یہ واقعہ اس سال کے آغاز میں رونما ہوا تھا۔

Bangladesch Gebäude der Bangladesh Central Bank

دارالحکومت ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کی عمارت کا ایک منظر

جمعرات اُنیس مئی کو فلپائن میں متعینہ بنگلہ دیشی سفیر جان گومیز نے دارالحکومت منیلا میں کہا کہ فلپائن کو کئی ملین ڈالر کی وہ رقم فوری طور پر واپس کر دینی چاہیے، جو ہیکنگ کی ایک بڑی کارروائی کے دوران لُوٹی گئی تھی۔ دوسری طرف فلپائن کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کو پوری طرح سے حل کرنے میں کئی مہینے بلکہ اکاؤنٹس کی ملکیت متنازعہ ہونے کی صورت میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

اس سال پانچ فروری کو نامعلوم ہیکرز نے امریکی فیڈرل ریزرو میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ سے اکیاسی ملین ڈالر کی رقم منیلا کے ایک بینک میں منتقل کر دی تھی، جہاں سے یہ رقم مقامی جؤا خانوں کو منتقل کر دی گئی۔

فلپائن کے حکام کے مطابق اُنہوں نے اکیاسی میں سے تقریباً ساٹھ ملین ڈالر کی رقم کا سراغ تو لگا لیا ہے لیکن اب تک جو رقم برآمد کی جا سکی ہے، وہ سراغ لگائی گئی مالیت کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہے۔

چوری کی گئی رقم کا ایک حصہ منیلا میں جؤا خانوں کے چینی پروموٹر کِم وونگ کے اکاؤنٹ میں سے برآمد ہوا تھا۔ اس سال مارچ کے اواخر میں منیلا میں کِم نے یہ رقم فلپائن کے حکام کے حوالے کرنا شروع کر دی تھی۔

اس طرح اب تک فلپائن کے حکام مجموعی طور پر پندرہ ملین ڈالر کی رقم برآمد کر چکے ہیں تاہم اب تک یہ رقم بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کی گئی ہے، جس پر بنگلہ دیشی سفیر جان گومیز نے آج منیلا میں سینیٹ کی ایک عوامی سماعت کے دوران غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا: ’’یہ بنگلہ دیش کا پیسہ ہے چنانچہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے پر پوری توجہ مرکوز کی جائے۔‘‘

Symbolbild Computer Hacker

نامعلوم ہیکرز نے اس سال فروری میں کارروائی کرتے ہوئے بنگلہ دیشی سینٹرل بینک سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی رقم چُرا لی تھی

فلپائن میں نہ تو بینکنگ کے شعبے میں نگرانی کا نظام زیادہ سخت ہے اور نہ ہی وہاں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے ضروری قوانین موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملک کالے دھن کا کاروبار کرنے والوں کی جنت بن چکا ہے۔ فلپائن کے قوانین میں جؤا خانوں کے پیسوں کے لین دین کو نگرانی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

کِم وونگ نے سینیٹ کی سماعت میں بتایا کہ بیجنگ اور مکاؤ کے دو جؤا بازوں نے اکیاسی ملین ڈالر کی رقم منیلا کی رائزل کمرشل بینکنگ کارپوریشن کو منتقل کیے تھے۔ کِم کے مطابق اُسے نہیں معلوم تھا کہ یہ رقم بنگلہ دیش سے چرائی گئی ہے اور یہ کہ اُس نے تو محض اکاؤنٹ کھولنے کے معاملے میں اپنے ان دو پرانے گاہکوں کی مدد کی تھی۔