بنگلہ دیش میں گرفتاریوں کے خلاف انسانی حقوق کے ماہرین کی تنقید | حالات حاضرہ | DW | 17.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں گرفتاریوں کے خلاف انسانی حقوق کے ماہرین کی تنقید

انسانی حقوق کے ماہرین نے بنگلہ دیش کی پولیس کی جانب سے مبینہ اسلامی عسکریت پسندوں کی گرفتاریوں کے خلاف کارروائی کو لے کر کڑی تنقید کی ہے۔

Bangladesch Dhaka Polizisten vor Zentral-Gefängnis

پولیس نے اب تک ایک سو چورانوے مبینہ عسکریت پسندوں سمیت گیارہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے

انسانی حقوق کے لیے سر گرم عمل ان ماہرین کا کہنا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ملک کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے پولیس نے سیکولر موضوعات پر لکھنے والوں، ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنان اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے سفاکانہ قتل کا سلسلہ ختم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر 194 مبینہ عسکریت پسندوں سمیت گیارہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے کئی سر کردہ ماہرین کے مطابق بہت سی گرفتاریاں یا تو غلط کی گئی ہیں یا پھر یہ آپریشن حکومتی مخالفین کو خاموش کرانے کے ایک طریقے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک یونیورسٹی پروفیسر اور انسانی حقوق کے ایک ماہر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نام پر عام لوگوں کو اور بعض صورتوں میں حزب اختلاف کے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ پروفیسر نے مزید کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ پورے ملک کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘۔

Bangladesch Festnahmen nach Razzien in Dhaka

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بغیر ثبوت کے گرفتار کیا گیا

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو جرائم کی تحقیقات اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے جبکہ گزشتہ پورے ہفتے میں ہونے والے آپریشن کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بغیر ثبوت کے گرفتار کیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں ہونے والی لرزہ خیز ہلاکتوں کے جواب میں بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز کا رد عمل سست رہا ہے اور پولیس اب بھی اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے مناسب تحقیقات کی بجائے ’معمول کے مشتبہ افراد‘ ہی کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہے۔

بریڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ حکومت کو شواہد کے بغیر لوگوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔ ڈھاکہ حکومت کو عالمی برادری کی جانب سے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں کا سلسلہ ختم کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

گزشتہ تین برسوں سے بنگلہ دیش میں جاری شدت پسندی کی لہر میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، صوفی علماء اور سیکولر کارکنان بھی شامل ہیں۔

Bangladesch Dhaka Angehörige von Inhaftierten vor Gefängnis

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا موقف ہے کہ آپریشن کے نام پر عام لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے

بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے گزشتہ ہفتے ’ہر ایک قاتل‘ کو گرفتار کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ بنگلہ دیش کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار شدہ افراد کی تعداد تیرہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کریک ڈاؤن کے چوتھے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی کی جانب سے تنقید کے بعد گرفتاریوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری کرنے کا سلسلہ روک دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کے معاملات پر عبور رکھنے والے شہاب انعام خان کا اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی ان گرفتاریوں نے اس قسم کے جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔

شیخ حسینہ واجد نے ملک کی ایک بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کی حلیف جماعت ’جماعت اسلامی‘ پر قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ ایسی کئی ہلاکتوں کی ذمہ داری شام اور عراق میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ قبول کر چکی ہے تاہم شیخ حسینہ واجد کی حکومت بنگلہ دیش میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا کوئی وجود ہونے سے انکار کرتی آ رہی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات