1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں مزید حملے کری‍ں گے، شدت پسندوں کا ویڈیو پیغام

بنگلہ دیش کی پولیس ایک ایسی جہادی ویڈیو کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں بنگلہ دیش میں مزید حملے کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں بنگلہ زبان بولنے والے تین آدمی گزشتہ ہفتے ڈھاکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی تعریف کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے بارے میں پولیس کے ترجمان مسعود الرحمان نے کہا، ’’ ویڈیو دیکھ گئی ہے اور ماہرین اس ویڈیو کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘‘‘

ویڈیو فوٹیج میں ایک نوجوان شخص خانہ جنگی کے شکار عرب ملک شام کے علاقے الرقہ کی ایک مصروف سٹرک پر کھڑے ہو کر بات چیت کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ الرقہ کو شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے کارکن اپنی نام نہاد خلافت کا دارالخلافہ قرار دیتے ہیں۔

Bangladesch IS-Anschlag in Dhaka

ویڈیو فوٹیج میں ایک نوجوان شخص خانہ جنگی کے شکار عرب ملک شام کے علاقے الرقہ کی ایک مصروف سٹرک پر کھڑے ہو کر بات چیت کر رہا ہے

ان تین افراد میں سے پہلے شخص نے ویڈیو میں بنگلہ دیش کی حکومت اور اس کے ملازمین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’تم لوگ اسلام کے مخالف جمہوری نظام کی حمایت کیوں کرتے ہو۔ جمہوری نظام میں انسان قوانین بناتے ہیں جبکہ قانون بنانے والی ذات تو صرف اللہ کی ہے۔‘‘ یہ شخص مزید کہتا ہے کہ بنگلہ دیش میں بار بار حملے کیے جائیں گے اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک شریعت کا نفاز نہیں کر دیا جاتا۔

واضح رہے کہ ڈھاکہ میں ’ہولی آرٹیزن بیکری‘ نامی ریسٹورنٹ میں دہشت گردانہ حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی ویڈیو میں ایک اور شخص نے بیکری پر کی گئےحملے کی تعریف بھی کی۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت میں عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک شدگان میں نو اطالوی، سات جاپانی، دو بنگلہ دیشی اور ایک ایک امریکی اور بھارتی شہری شامل تھے۔

Bangladesch Anschlag Schießerei in Dhaka

160 ملین نفوس پر آباد بنگلہ دیش میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن یہ ملک سرکاری طور پر سکیولر ہے

160 ملین نفوس پر آباد بنگلہ دیش میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن یہ ملک سرکاری طور پر سکیولر ہے۔ نئی دہلی میں واقع تھنک ٹینک ’ویویک آنند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ سے وابستہ کے جی سریش کا کہنا ہے کہ ڈھاکا میں حملہ آوروں نے لوگوں کو خنجروں کے وار کر کے ہلاک کرنے سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی جہادی سوچ کے کسی درجے پر ہیں۔

DW.COM