1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں عام ہڑتال، پچاس افراد زخمی

بنگلہ دیش میں دو روزہ ہڑتال کے پہلے دن پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم کے نتیجے میں اپوزیشن جماعت کے اہم رہنماؤں سمیت کل پچاس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

default

بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت، بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) غیر جانب دار نگران حکومت کے تحت انتخابات نہ کروانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دو روزہ عام ہڑتال کی کال دی تھی۔ اس کال کے بعد ہڑتال کے پہلے دن یعنی گزشتہ روز بدھ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی۔ اس دوران ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی اور ملک بھر میں روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ یہ مظاہرے بی این پی اور جماعت اسلامی پارٹی کی طرف سے منعقد کیے گئے۔ اس دوران سابقہ وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی سیاسی پارٹی بی این پی کے اعلیٰ رہنما زین العابدین فاروق بھی زخمی ہو گئے۔ رائٹرز نے ڈھاکہ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار قاضی واجد علی کے حوالے سے بتایا کہ زین العابدین فاروق نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔

Protest Bangladesch Textilindustrie Mai 2010

گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ایک مظاہرے کے شرکاء

بنگلہ دیش کی وزیر داخلہ سہارا خاتون نے زین العابدین فاروق کے زخمی ہونے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تاہم کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ دوسری طرف بی این پی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل مرزا فخر السلام عالمگیر نے صحافیوں کو بتایا کہ زین العابدین فاروق پر حملہ دراصل انہیں قتل کرنے کی کوشش تھی،’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اپنے حریفوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کس حد تک جا سکتی ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے پہلے دن دارالحکومت ڈھاکہ اور بندر گاہی شہر چٹاگانگ کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں لوگوں نے احتجاج کیا۔ اسی دوران متعدد گاڑیوں کو نذر آتش بھی کر دیا گیا۔

بنگلہ دیش کی پارلیمان نے تیس جون کو آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے غیر جانب دار نگران حکومت کے زیر تحت انتخابات کے قانون کو ختم کر دیا تھا۔ یہ نظام 1996 ء میں متعارف کروایا گیا تھا۔ اس کا مقصد انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات کو روکنا اور ممکنہ فراڈ کا خاتمہ تھا۔ مئی میں سپریم کورٹ نے بھی اس نظام کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس