1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں سیکولر مصنفین پر حملے، ایک پبلشر کا قتل

بنگلہ دیش میں نامعلوم مسلح افراد نے لادین مصنفین کے ساتھ کام کرنے والے ایک پبلشر کو ہلاک کر دیا گیا۔ ہفتے کے دن ہی ڈھاکا میں ایک سیکولر بلاگر اور دو مصنفین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتہ اکتیس اکتوبر کو بنگلہ دیش کے اہم دانشور اور مصنف فیصل عارفین دیپن کو وسطی ڈھاکا میں واقع ان کے دفتر میں ہی ہلاک کر دیا گیا۔ فیصل کے والد نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کے بیٹے کا گلہ کاٹ دیا۔

پولیس کے مطابق تینتالیس سالہ فیصل کی لاش ان کے دفتر سے برآمد ہوئی۔ فیصل کے والد ابوالقاسم فضل الحق نے بتایا، ’’میں نے دیکھا کہ وہ (فیصل) اوندھے منہ پڑا ہے۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کا گلہ کاٹ دیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میرے بیٹے نے اویجیت رائے کی کتابیں شائع کی تھیں۔ حملہ آوروں نے ایسے دیگر پبلشرز کو بھی نشانہ بنایا ہے، جنہوں نے رائے کی کتابوں کی اشاعت کا کام کیا تھا، لیکن ہلاک میرا بیٹا ہوا ہے۔‘‘

سیکولر مصنف اور بلاگر اویجیت رائے کو بھی نامعلوم افراد نے رواں برس فروری میں اسی طرح ہلاک کر دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں لادین بلاگرز اور مصنفین کو اس طرح سے خونریز حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

فیصل کی ہلاکت سے کچھ گھنٹے قبل اکتیس اکتوبر ہفتے ہی کے دن ڈھاکا میں ایک ایسا اور حملہ بھی کیا گیا، جس میں دو سیکولر مصنفین اور ایک پبلشر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تین نامعلوم حملہ آوروں نے ان کے دفتر میں داخل ہو کر انہیں مارا پیٹا اور باہر سے دروازہ بند کر کے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس کو دروازہ توڑ کر ان افراد کو باہر نکالنا پڑا۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

Bangladesch Blogger

ہفتے ہی کے دن ڈھاکا میں دو سیکولر مصنفین اور ایک پبلشر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا

ڈھاکا کے ایک پولیس انسپکٹر معظم الحق نے تصدیق کی کہ فیصل کو سر اور گردن پر حملہ کر کے ہلاک کیا گیا۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس پولیس افسر نے بتایا کہ جب فیصل کے والد ٹیلی فون پر اپنے بیٹے سے رابطہ نہ کر سکے، تو انہوں نے پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس اہلکار جب ان کے دفتر پہنچے، تو انہوں نے فیصل کو وہاں مردہ حالت میں پایا۔

کسی گروہ نے فوری طور پر ان پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم پولیس کو شبہ ہے کہ ان حملوں میں بھی انصاراللہ بنگلہ نامی انتہا پسند گروہ ملوث ہو سکتا ہے۔ یہ گروہ ماضی میں سیکولر مصنفین اور بلاگرز پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں رواں سال کے دوران چار بلاگرز ہلاک کیے جا چکے ہیں۔