1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں سمندری طوفان، سینکڑوں گھر تباہ

’’مورا‘‘ نامی سمندری طوفان آج منگل 30 مئی کی صبح بنگلہ دیش کے ساحلوں سے ٹکرا گیا ۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق اس طوفان کے سبب خلیج بنگال میں واقع مختلف جزائر پر ہزاروں گھر تباہ ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاہم ابھی تک ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مورا نامی یہ سمندری طوفان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب منگل کی صبح پہنچا۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت پہلے ہی تین لاکھ کے قریب شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان افراد کے لیے کوکس بازار اور چٹاگانگ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں میں ایک ہزار سے زائد ہنگامی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

کوکس بازار کے چیف گورنمنٹ ایڈمنسٹریٹر علی حسین کے مطابق سینٹ مارٹن نامی جزیرے سے یہ طوفان پیر اور منگل کی درمیانی شب ٹکرایا جس کی وجہ سے اس جزیرے پر موجود سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے۔ مورا نامی اس سمندری طوفان کے سبب 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے ہوائی جھکڑ چل رہے ہیں۔

Bangladesch Evakuierung Zyklon Mora (Getty Images/AFP)

متاثرین کے لیے کوکس بازار اور چٹاگانگ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں میں ایک ہزار سے زائد ہنگامی مراکز قائم کیے گئے ہیں

سینٹ مارٹن نامی جزیرے کے عوامی نمائندے نور احمد کے مطابق طوفانی بارشوں نے بہت سے گھروں کو تباہ کر دیا جبکہ آٹھ ہزار کے قریب باشندوں کو محفوظ مقامات یا ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ نور محمد کے مطابق، ’’ہمارے پاس ابھی تک کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘

کوکس بازار کے مہیش کاہلی جزیرے پر آباد 22 ہزار کے قریب رہائشیوں کی اکثریت محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئی ہے۔ 1991 میں آنے والے سمندری طوفان کے سبب اس جزیرے پر 10 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوکس بازار کے قریب تین لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق طوفان کے سبب سب سے زیادہ تباہی اسی علاقے میں ہوئی۔ روہنگیا کمیونٹی کے رہنما عبدالسلام کے مطابق روہنگیا لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’طوفان کے سبب روہنگیا مہاجر کیمپوں میں موجود قریب 20 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘ عبدالسلام کا مزید کہنا تھا، ’’کچھ جگہوں پر جہاں زیادہ تر گھر بانسوں اور پلاسٹک سے بنی جھونپڑیوں پر مشتمل تھے وہ تمام کے تمام تباہ ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگ زخمی تو ہوئے ہیں مگر کوئی ہلاک نہیں ہوا۔‘‘