1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ، ’منصوبہ خطرناک‘

اقوام متحدہ کے مطابق بنگلہ دیش میں دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ کے قیام کا منصوبہ ’خطرناک‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈھاکا حکومت روہنگیا مہاجرین کے لیے ایسا کیمپ قائم کرنا چاہتی ہے، جس میں آٹھ لاکھ سے زائد مہاجرین رہ سکیں گے۔

default

بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی موجودہ مجموعی تعداد آٹھ لاکھ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے

میانمار کے ساتھ سرحد پر واقع بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار سے ہفتہ سات اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں اگست کے اواخر سے دوبارہ شروع ہونے والی خونریزی کے باعث اب تک نصف ملین سے زائد روہنگیا مہاجرین وہاں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

ان نئے مہاجرین کی آمد سے پہلے اس جنوبی ایشیائی ملک میں پہلے سے بھی تین لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین موجود تھے۔ اس طرح بنگلہ دیش میں اب میانمار میں ایک مسلم نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ان بے گھر باشندوں کی مجموعی تعداد آٹھ لاکھ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

روہنگيا مسلمان ميانمار واپسی کے حوالے سے تحفظات کا شکار

روہنگیا افراد کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم کیا جائے، گوٹیرش

میانمار حکومت راکھین اسٹیٹ تک رسائی دے، امدادی ادارے

ان مہاجرین کو رہائش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈھاکا حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ ایک ایسا مہاجر کیمپ قائم کرے گی، جہاں یہ تمام مہاجرین رہ سکیں گے۔ اگر ایسا کوئی کیمپ قائم ہو گیا تو یہ دنیا بھر میں مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ ہو گا۔ اس کیمپ کے لیے ہزاروں ایکٹر زمین مختص بھی کی جا چکی ہے۔

Bangladesh Rohingya Flüchtlinge

ان مسلم مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ابھی تک رہائش کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں

لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ڈھاکا حکومت کا یہ منصوبہ اس کی روہنگیا مہاجرین کی مدد کے لیے نیک نیتی سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ایک ’خطرناک منصوبہ‘ ہے۔

اس عالمی ادارے کے مطابق مہاجرین کے لیے کسی ایک رہائشی علاقے میں، جہاں تین چوتھائی ملین سے زائد انسان رہتے ہوں، یہ منصوبہ اس لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کہ وہاں کسی آتشزدگی یا وبائی بیماریوں کے بہت تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے بے تحاشا انسانی ہلاکتوں کا خطرہ ہو گا۔

روہنگیا کی شہریت کا معاملہ حل طلب ہے، اقوام متحدہ

بنگلہ دیش میں مساجد کی تعمیر، بیس ملین ڈالر کی سعودی پیشکش

روہنگیا کیمپوں میں ہیضے کی وبا پھیلنے کا امکان

Bangladesch, schwangere Rohingya Frau in Flüchtlingscamp

ان مہاجرین میں بڑی تعداد بزرگوں، خواتین اور بچوں کی ہے

ڈھاکا حکومت یہ نیا مہاجر کیمپ ضلع کوکس بازار میں اسی نام کے شہر کے قریب کُوٹُوپالونگ کے علاقے میں بنانا چاہتی ہے، جس میں تمام روہنگیا مہاجرین رہ سکیں گے۔

لیکن اس بارے میں بنگلہ دیش میں مقیم اقوام متحدہ کی مختلف شعبوں میں امدادی سرگرمیوں کے نگران ملکی رابطہ کار رابرٹ واٹکنز نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت کو کوئی ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ قائم کرنے کے بجائے ایسے دوسرے مقامامات کی تلاش کرنا چاہیے، جہاں قدرے چھوٹے لیکن تعداد میں زیادہ مہاجر کیمپ قائم کیے جا سکیں۔

رابرٹ واٹکنز نے اے ایف پی کو بتایا، ’’جب آپ کسی ایسے چھوٹے سے علاقے میں بہت بڑی تعداد میں ایسے انسانوں کو مل کر رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جن کا جسمانی مدافعتی نظام بہت کمزور ہو چکا ہو، تو یہ اقدام اس لیے خطرناک ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں خوفناک حد تک زیادہ انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔‘‘

Bangladesch, schwangere Rohingya Frau in Flüchtlingscamp

بے گھر اور محروم، ایک روتی ہوئی حاملہ روہگنیا مہاجر خاتون

واٹکنز نے کہا، ’’ایسی صورت میں اس کیمپ کے کسی بھی ایک حصے میں اگر کوئی وبائی بیماری پھوٹ پڑے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی کوئی وباء انتہائی تیز رفتاری سے پھیلے گی اور یوں یکدم لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر مہاجر کیمپ چھوٹے ہوں، تو وہاں لوگوں کو رہائش، صحت اور سلامتی کی سہولیات مہیا کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔‘‘

ڈھاکا حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت یا آئی او ایم اس بات پر راضی ہو چکا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں کام کرنے والے مہاجرین کے امدادی اداروں کی کارروائیوں کو مربوط بنائے گا اور مجوزہ مہاجر کیمپ کی جگہ پر شیلٹر تعمیر کرنے میں بھی مدد دے گا۔

آئی او ایم کے مطابق اگر بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے منصوبے کے مطابق کوکس بازار میں یہ بہت وسیع و عریض کیمپ قائم کر دیا، تو یہ دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہو گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک یوگنڈا میں بیدی بیدی کا کیمپ اور کینیا میں داداب کا کیمپ دونوں ہی عالمی سطح پر مہاجرین کے سب سے بڑے کمیپ شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں قریب تین لاکھ مہاجرین کے رہنے کی گنجائش ہے۔

DW.COM