1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیش میں تشدد بڑھتا ہوا ، وجوہات آخر کیا؟

عالمی سطح پر بنگلہ دیش میں انتہا پسندوں کی پرتشدد سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصرین ان واقعات میں اضافے کی وجہ ملک میں پائی جانے والی سیاسی و مذہبی بےچینی کو قرار دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش نے سن 1971 میں پاکستان سے آزادی حاصل کی تھی۔ آزادی کے بعد اِس ملک میں تقریباً ایک درجن فوجی بغاوتیں رونما ہو چکی ہیں۔ اس جنوب ایشیائی ملک میں نیم جمہوریت اور آمریت ایک ساتھ پروان چڑھتی رہیں ہیں۔ اس تمام عرصے میں خاص طور پر شدت پسند مذہبی تنظیمیں مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتی رہی ہیں۔

ان مذہبی تنظیموں میں جماعت المجاہدین بنگلہ دیش اور انصار اللہ بنگلہ ٹیم کو نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ انصار اللہ نامی تنظیم بہت پرانی نہیں ہے۔ جماعت المجاہدین نے سن 2005 میں بم حملوں اور اغوا کی وارداتیں سرانجام دینے کے علاوہ کم از کم 28 افراد کو ہلاک بھی کر دیا تھا۔ اِس واقعے کے بعد بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا کے ایک مقبول ریسٹورانٹ میں 20 افراد کو مغوی بنا کر قتل کرنا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ شدت پسندوں کی مسلح سرگرمیوں کے دوران ہندو پروہتوں، مسلمان صوفیوں اور لبرل دانشوروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

Sheik Mujibur Rahman

بنگلہ دیش کی آزادی کے ہیرو شیخ مجیب الرحمان

ان حالات و واقعات کے تناظر میں سیاسی و سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ کئی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے انتہا پسند غیر معمولی انداز میں متحرک ہیں۔ ان میں ایک آزادی کی جنگ میں پاکستانی فوج کی حمایت کے شبے میں بڑی مذہبی سیاسی پارٹی’ جماعت اسلامی‘ کے عمر رسیدہ رہنماؤں کو ایک وار کرائمز ٹریبیونل کے ذریعے پھانسیاں دینا بھی شامل ہے۔ یہ وار کرائمز ٹریبیونل موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ نے قائم کر رکھا ہے۔ اِس ٹریبیونل کے فیصلوں پر اہم سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی خاموشی کو خاصا اہم خیال کیا گیا ہے۔ ایسے ہی واقعات میں سپریم کورٹ کی جانب سے سن 2014 میں ’جماعت اسلامی‘ کو ملکی عام انتخابات میں شریک ہونے سے روک دینے کو بھی مذہبی جذبات برانگیختہ کرنے کے مترادف خیال کیا گیا ہے۔

کئی مبصرین متفق ہیں کہ شیخ حسینہ کئی تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش میں ہیں اور یہ ایک منفی رویہ ہے۔ اسی طرح ملک میں پائی جانے والی جمہوری اقدار میں عدم شفافیت بھی ایک طبقے کی محرومی کا باعث بن رہا ہے۔

امریکا کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی جنوبی ایشیا کی ماہر سی کرسٹین فیئر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کی سخت پالیسی نے ملک کو ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا ہے اور سیاسی طور پر یہ نصف ملک کو دبانے کی کوشش ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش کے نوجوانوں میں بنیاد پرستانہ رجحانات کی سرایت کا عمل جاری ہے اور اس عمل کو انتہا پسند مسلح تنظیمیں مؤثر انداز میں اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات