1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں ایک نامور حکومت مخالف طنز نگار گرفتار

بنگلہ دیش میں ایک معروف طنزنگار اور مصنف کو حکومت کا تمسخر اُڑانے والے مضامین پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جمعرات کی شب رفایت احمد کو بنگلہ دیش ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے افسروں نے انٹرنیٹ پر مضامین پوسٹ کرنے کے متنازعہ قانون کے تحت گرفتار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی اس ایلیٹ فورس کے ایک ترجمان میجر رومان محمد کے بقول،’’رفایت کو حکومت مخالف اشتعال انگیز متن فیس بُک پر پوسٹ کرنے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘

ریپڈ ایکشن بٹالین نے رفایت احمد پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے فرضی نام سے ایک ایسے پیج جس کا بنگلہ میں نام ’’موجا لوُس‘‘ یا Are you making fun ہے، پر حکومت پر طنز کرنے اور اُس کا مزاق اُڑانے والے مضامین پوسٹ کیے ہیں۔ یہ پیج بنگلہ دیش کے قدامت پسند معاشرے میں بہت زیادہ مقبول ہوا ہے۔ خاص طور سے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور امن عامہ کی ابتر صورتحال پر طنز اس پیج کا خاصہ ہے اور یہی وجہ ہے عوام میں اس کی بہت زیادہ مقبولیت ہے۔

اس فیس بُک پیج کے سات لاکھ فینز ہیں۔ اس پیج پر گزشتہ ماہ حکومت کی طرف سے فیس بُک، وائبر اور واٹس ایپ پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کرنے کے اعلان پر حکومت کا بہت مزاق اُڑایا تھا۔

Bangladesch neuer Angriff auf säkulare Verleger und Autoren Ehefrau Dipan

بنگلہ دیش میں سیکولر مصنفین پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے

جمعرات کو حکومت نے ان پابندیوں کو اُٹھانے کا اعلان کر دیا تھا۔ جبکہ پابندیوں کے دوران بھی بہت سے صارفین نے اس ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے بڑے حربے استعمال کیے تھے اور اس میں وہ جزوی طور پر کامیاب بھی رہے تھے تاہم وائبر اور واٹس ایپ پر پابندی جاری تھی۔

ڈھاکہ حکومت اس بات سے خائف ہے کہ ان ایپس کو حکومت مخالف مظاہرے کرنے والوں کو مزید متحرک کرنے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ بڑی تعداد میں احتجاج کرنے والے یہ مظاہرین ملک میں مزید بد امنی پھیلا سکتے ہیں جو پہلے ہی سے مبینہ مسلم عسکریت پسندوں کے خون اور ہلاکت خیز حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

موبائل ایپس پر پابندی بنیادی طور پر اُس وقت لگائی گئی تھی جب گزشتہ ماہ دو اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے دائر کردہ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انہیں پھانسی کی سزا دے دی گئی تھی۔ اُن پر 1971 ء کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عائد تھا۔

رفایت احمد پر انٹرنیٹ کے ناجائز اور غیر قانونی استعمال کے سبب پولیس نے ایک ابتدائی کیس درج کر لیا جس کے بعد انہیں ڈھاکہ کی ایک عدالت میں جمعے کو پیش ہونا تھا۔

Bangladesch neuer Angriff auf säkulare Verleger und Autoren Demo

اس ملک میں آزادئی رائے پر قدغن کے خلاف عوامی مظاہرے بھی ہوتے ہیں

بنگلہ دیش کے انٹر نیٹ ایکٹ کے تحت جو شخص بھی مذہبی عقائد کی توہین یا ریاستی قوانین کی خلاف ورزی یا لاء اینڈ آرڈر کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بُوجھ کر اشتعال انگیز مواد شائع کرے گا، اُسے 14 سال تک کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران اکثریتی مسلم آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں متعدد نامور صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کو جیلوں میں ڈالنے کے لیے اس قانون کا سہار لیا جا چُکا ہے۔

DW.COM