1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش میں اقتصادی ترقی کی ریکارڈ شرح

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے مطابق کپڑے کی بر آمدات میں متاثر کن اضافے کے باعث امید ہے کہ اس مالی سال میں بنگلہ دیش کی اقتصادی شرح نمو 6.7 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

default

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتصادی ترقی میں اضافے کا سلسلہ رواں سال جولائی میں شروع ہونے والے مالی سال کی ابتدا سے ہوا۔ ماہ اکتوبر تک یعنی صرف چار ماہ کے عرصے میں بڑے پیمانے پر کپڑوں کی تیاری کے آرڈرز ملنے کی وجہ سے ملکی برآمدات میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Bangladesch Textilindustrie

بنگلہ دیش کی 40 فیصد افرادی قوت کپڑے کی صنعت سے وابستہ ہے

دوسری جانب ملک میں مقامی سطح پر طلب میں اضافے کے سبب درآمدات میں بھی 37 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مزید یہ کہ ملک کی صنعتی مشینری میں بھی 36 فیصد اضافہ ہوا، جو ملک میں صنعتکاری کے شعبے میں بہت بڑے ہیمانے پر ہونے والی وسعت کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران عالمی اقتصادی بحران کے سبب بنگلہ دیش کی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ سات سال کی کم ترین سطح 5.8 فیصد پر تھی تاہم رواں سال اس سطح میں متاثر کن اضافہ دیکھا گیا۔ مرکزی بینک کے مطابق اگر ترقی کی یہ شرح برقرار رہی تو ملکی جی ڈی پی رواں مالی سال میں 6.7 فیصد جبکہ 2012ء کی درمیانی میعاد میں سات فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو بنگلہ دیش کی اقتصادی ترقی کے لئے ایک ریکارڈ ہو گا۔

Wal Mart Walmart Shop in den USA Supermarkt

مغربی ممالک کے بڑے برانڈز کی بدولت بنگلہ دیش کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے

اس سے قبل سن 2006 میں بنگلہ دیش نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی ترقی کی تھی، جب اس کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار 6.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اس سال بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی سب سے بڑی وجہ مغربی ممالک اور شمالی امریکہ میں سستے کپڑے فراہم کرنے والے بڑے برانڈز Gap، Wal-Mart اور H&M جیسے بڑے ریٹیلرز کی جانب سے ملنے والے کپڑوں کے بڑے آرڈرز تھے۔

واضح رہےکہ بنگلہ دیش کو برآمدات کی مد میں ہونے والی مجموعی آمدنی کا 80 فیصد حصہ مغربی برانڈز کے لئے ریڈی میڈ کپڑوں کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے جبکہ ملک کی 40 فیصد افرادی قوت صرف اسی صنعت سے وابستہ ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس