1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بنگلہ دیش میں اردو بولنے والوں کے قتل عام کی تحقیق بھی ضروری‘

بنگلہ دیش کی ’جنگ آزادی‘ کے لیے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور حکومت کا ساتھ دینے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، مگر خوفناک جرائم کے الزامات اس جدوجہد کے ’ہیروز‘ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

default

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت بھارتی صوبہ بہار سے بھی بڑی تعداد میں مسلمانوں نے اس وقت کے مشرقی پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ ہجرت کرنے والے ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ 1971ء میں بنگلہ دیش کے علیحدہ ملک بننے پر منتج ہونے والی لڑائی کے دوران ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا تھا۔

ان خاندانوں کے مطابق بنگلہ دیش بننے کے وقت ہونے والی خونی لڑائی میں انہیں نہ صرف اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے بلکہ بنگلہ دیش کے مقامی لوگوں کے ہاتھوں ان میں سے ایک بڑی تعداد قتل بھی ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کے ساتھ ہونے والی اس قتل و غارتگری کو بھلا دیا گیا بلکہ ان پر پاکستان کے ساتھ معاونت کرنے کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش نے16 دسمبر 1971ء میں پاکستان سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلان آزادی کے محض ایک دن بعد سیرالنسا بمشکل اس قتل عام سے بچ پائی، جس میں ’فریڈم فائٹرز‘ کے ہاتھوں اس کا شوہر، بیٹا اور بیٹی بھی قتل ہوئے۔

سیرالنسا اردو بولنے والے ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہے جو بھارت سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان پہنچے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی طرف سے انہیں اور ان کے خاندان کو بنگلہ دیش کے رہائشی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

سیرالنسا ڈھاکہ کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں گاؤلونڈا میں ہونے والے اس قتل عام کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ہمیں بندوق کی نوک پر بالکل برہنہ کر دیا گیا اور بنگلہ دیشی جنگجو ہمیں ریوڑ کی طرح ہانک کر دریا کے کنارے لے گئے۔ وہاں انہوں نے ہمیں چاقوؤں اور چُھروں سے ذبح کرنا شروع کر دیا۔ انہی میں سے ایک نے چاقو کی نوک سے میری دائیں آنکھ نکال دی اور میرے سینے پر کئی مرتبہ چاقو گھونپا۔‘‘ ‘‘ نسا کے بقول اس کے بعد اسے مردہ سمجھ کر تڑپتے لوگوں کے درمیان چھوڑ دیا گیا۔

بنگلہ دیشی حکومت کے بقول ملک کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی نو ماہ طویل جنگ کے دوران قریب 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لاکھوں خواتین کی عصمت دری بھی کی گئی۔

انکار کر دیا گیا اور انہیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کرنے والے مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر آج تک انہی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

بہاریوں کو شہریت کے حقوق دینے سے انکار کر دیا گیا اور انہیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کرنے والے مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر آج تک انہی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

رواں ہفتے بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے اپوزیشن پارٹی جماعت اسلامی کے ایک سینئر رہنما دلاور حسین سیدی کے خلاف مقدمے کے آغاز کیا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی تھی اور ان کے خلاف مقامی بنگالی لوگوں کی نسل کشی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین کے مطابق بنگالیوں کی طرف سے بہاریوں پر کیے جانے والے حملے اور جرائم ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔ یہاں تک کہ قتل کے ان واقعات کی بھی کبھی چھان بین نہیں کی گئی جن کے بارے میں مکمل دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

بہاری کمیونسٹ پارٹی کے ایک اہم رہنما اعزاز احمد صدیقی کے بقول: ’’ ہر کوئی 1971ء میں بنگالیوں کے قتل کی بات تو کرتا ہے مگر بہاریوں کے منظم قتل عام کے بارے میں کوئی ذکر کرنے کی جرآت بھی نہیں کرتا۔‘‘

اعزاز صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو مزید بتایا : ’’ہمارے اعداد وشمار کے مطابق صرف سانتاہار شہر میں لاکھوں بہاریوں کو قتل کیا گیا۔ کئی ہزار لوگوں کو محض چند دنوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔‘‘

جنگ کے بعد نئے بننے والے ملک بنگلہ دیش میں بہاریوں کو شہریت کے حقوق دینے سے انکار کر دیا گیا۔ ان کے پاس جائیداد رکھنے اور دیگر سماجی حقوق بھی نہ رہے اور انہیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کرنے والے مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر آج تک انہی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

بنگلہ دیشی تاریخ دان کئی دہائیوں سے بہاریوں کے قتل عام کو کم کرکے پیش کرتے رہے ہیں اور انہیں بھپرے ہوئے ہجوم کی بعض وارداتیں قرار دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش لبریشن وار میوزیم کے ایک ٹرسٹی مفید الحق کہتے ہیں: ’’ ہم یہ بات مانتے ہیں کہ چند اردو بولنے والے لوگ فسادات کی طرح کے بعض واقعات میں ہلاک بھی ہوئے ہیں، لیکن ان کا منظم قتل عام یا ریاستی تعاون سے ہونے والی اس طرح کی نسل کشی نہیں ہوئی جیسی پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں بنگالیوں کی ہوئی۔‘‘

بہاریوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے ’نسل کُشی‘ قرار دیا جا سکتا ہے, عشرت فردوسی

بہاریوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے ’نسل کُشی‘ قرار دیا جا سکتا ہے, عشرت فردوسی

تاہم اب علمی اشرافیہ کی ایک نئی کھیپ اس قتل عام کے بارے میں جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ آکسفورڈ یونیورٹی کی محققہ سرمیلا بوس بھی ان میں شامل ہیں۔ انہوں نے رواں برس یعنی 2011ء میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے، ’ ڈیڈ ریکننگ: میموریز آف دی 1971 بنگلہ دیش وار‘‘ جس کا مطلب ہے کہ لاشوں کا شمار ، بنگلہ دیش کی جنگ کی یاداشت۔

بوس کہتی ہیں کہ بنگلہ دیشی حکام بہاریوں کے قتل کے حوالے سے ’میں نہ مانوں‘ جیسی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ بوس کا جن کی کتاب کو بنگلہ دیش میں شدید تنقید کا سامنا ہے، کہنا ہے کہ ’قوم پسندوں‘ کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کو کتابی حوالوں میں سے بھی بڑی تعداد میں نکال دیا گیا ہے۔

عشرت فردوسی نے1971ء کے مظالم کے حوالے سے ایک کتاب حال ہی میں مکمل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہاریوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے ’نسل کُشی‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عشرت نے اے ایف پی کو بتایا: ’’ میں نے خود کم از کم ایک سو بچوں کی لاشوں کو دریائے رُپشا میں تیرتے دیکھا ہے۔ بعض بنگالی کشتیوں میں سوار ہوکر ان بہاریوں کو چاقوؤں سے نشانہ بنا رہے تھے جن میں جان ابھی باقی تھی۔‘‘

بہاری کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اعزاز احمد صدیقی کے مطابق حکومت کی طرف سے بہاریوں کے قتل عام کا اعتراف بھی اسی طرح اہم ہے جیسا ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی جنہوں نے 1971ء میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ صدیقی کے بقول: ’’ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان جرائم کا اقرار کیا جائے۔ ہم کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں چاہتے۔ جرائم تسلیم کیے جانے سے ان کے باعث لگے زخم بھرنے کا عمل شروع ہوگا۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان / اے ایف پی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM