بنگلہ دیش فیکٹریوں میں مزدوروں کی زندگیاں خطرے میں | معاشرہ | DW | 13.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بنگلہ دیش فیکٹریوں میں مزدوروں کی زندگیاں خطرے میں

 تین برس قبل بنگلہ دیش میں رانا پلازہ نامی ایک گارمنٹ فیکری کے انہدام میں گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بنگلہ دیش کی تاریخ کے اس خوف ناک ترین صنعتی حادثے کے بعد حکومت نے فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا تھا، تاہم اب بھی وہاں مزدوروں کی سلامتی کے حوالے سے حکومتی اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سلامتی کے حوالے سے طے شدہ ضوابط میں کہاں کوتاہی ہوئی، اس بابت کی تفتیش جاری ہے، تاہم ٹمپاکو فوئلز فیکٹری میں آتش زدگی سے قبل اگر ان کوتاہیوں پر غور کر لیا جاتا، تو 39 مزدوروں کی جان بچ سکتی تھی۔

ستمبر کی 10 تاریخ کو پیش آنے والے اس واقعے کو رانا پلازہ کے بعد کا سب سے ہولناک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے اس پلانٹ کا مالک اور پارلیمان کا ایک سابقہ رکن مفرور ہیں۔

آتش گیر مواد اس فیکٹری کے فرش پر پڑا تھا، گیس لیک ہو رہی تھی، گیس کا بے تحاشا استعمال کیا جا رہا تھا، بوائلرز کی پوزیشن درست نہیں تھی، یہ وہ بہت سے محرکات ہو سکتے ہیں، جو اس فیکٹری میں آتش زدگی کی وجہ بنے۔

فیکٹریوں میں سلامتی کے حوالے سے حکومتی محکمے کے سربراہ سید احمد کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ٹامپاکو پلانٹ کا دورہ اس فیکٹری کو کام جاری رکھنے کی اجازت میں توسیع سے قبل کرنا چاہیے تھا، تاہم ان کے محکمے کو اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے معائنہ کار اس فیکٹری کا دورہ نہ کر سکے۔ ’’اگر ہم نے اس فیکٹری کا دورہ کر لیا ہوتا اور ہم نے جائزہ لے لیا ہوتا، تو ہم فیکٹری میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے کوئی کارروائی کر سکتے تھے اور اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ان کا محکمہ داخلی نظرثانی کے عمل سے گزر رہا ہے، تاکہ کہ معلوم ہو کہ اس فیکٹری کے اجازت نامے میں توسیع پر کس نے دستخط کیے تھے۔