1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بنگلہ دیش سے لیبیا اور پھر یورپ، مہاجرین کا نیا راستہ

دو برس قبل یورپ پہنچنے والے بنگلہ دیشی مہاجرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے بنگلہ دیشی مہاجرین اب یورپ پہنچنے کی کوشش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی اور خلیجی ممالک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کے تناظر میں بنگلہ دیشی تارکین وطن لیبیا کے ذریعے بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کا مشکل راستہ استعمال کر رہے ہیں۔

احد کا تعلق ایسے ہی بنگلہ دیشی مہاجرین سے ہے، جو  رواں برس مئی میں لیبیا سے اٹلی پہنچے۔ مہاجرین سے متعلق معلومات مہیا کرنے والی ویب سائٹ انفومائیگرینٹس کے مطابق آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے لیے یہ 28 سالہ بنگلہ دیشی شخص جب بحیرہء روم میں ریسکیو کیا جا رہا تھا، تو اس کی شہریت امدادی کارکنوں کے لیے حیرت کا باعث تھی، کیوں کہ احد کا تعلق اطالوی سرزمین سے ساڑھے سات ہزار کلومیٹر دور بنگلہ دیش سے تھا۔

بحیرہء روم میں تارکین وطن کو ریسکیو کرنے کی کارروائیوں میں مصروف تنظیم ایس او ایس میڈیٹیرینین کے مطابق جس کشتی سے احد کو ریسکیو کیا گیا، اس پر 90 تارکین وطن سوار تھے، جن میں سے 67 بنگلہ دیشی تھی۔

Europa Kos Flüchtlinge Migranten Versorgung (picture-alliance/dpa/S. Palacios)

بنگلہ دیشی شہری بھی یورپ کا رخ کر رہے ہیں

گزشتہ دو برسوں میں فرانس میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے افراد کو ممالک کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو بنگلہ دیش پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔

پیرس میں قائم ایک ادارے کے بنگلہ دیش سے متعلق امور کے ماہر جیرمی کارڈون کے مطابق، ’’بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ مہاجرت کے اعتبار سے ایک نیا معاملہ ہے۔ اب بہت زیادہ بنگلہ دیشی شہری بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچتے نظر آ رہے ہیں۔‘‘

احد کا کہنا ہے کہ ان کا سفر ڈھاکا سے عمان کی طرف شروع ہوا تھا، جہاں سے وہ بحرین پھر ترکی اور پھر لیبیا پہنچے۔ پھر لیبیا سے انہوں نے یورپ کی جانب سفر اختیار کیا۔

احد نے بتایا کہ اصل میں ان کے خاندان نے انہیں لیبیا اس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ وہاں کام کر سکیں اور پیسے کما سکیں، کیوں کہ بہت سے بنگلہ دیشی شہری لیبیا میں نوکری کر رہے ہیں۔ تاہم وہاں ملازمت کے خراب حالات اور سلامتی کی صورت حال انہیں اس مشکل سفر پر اکساتی ہے۔