1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بنگلہ دیش سے روہنگیا مہاجرین کی میانمار واپسی، معاہدہ طے

میانمار اور بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کے حوالے سے جمعرات کے روز ایک معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔  اس معاہدے کے تحت اب روہنگیا مسلمان واپس اپنے وطن جا سکیں گے۔

متعدد نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیش اور میانمار کے مابین روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس معاملے پر گزشتہ کئی ہفتوں سے مذاکرات جاری تھے۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی کے مابین میانمار کے دارالحکومت نیپیدوا میں ہونے والی ملاقات کے دوران روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔

روہنگیا بحران: ’اس سفاکی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا‘

میانمار میں نسلی عصبیت کی پالیسی ختم کی جائے، ایمنسٹی

اس سال اگست سے اب تک چھ لاکھ بیس ہزار سے زائد روہنگیا افراد میانمار کی شورش زدہ ریاست راکھین سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ لاکھوں روہنگیا افراد کی ہجرت کے باعث پیدا ہونے والے اس بحران کے بعد عالمی سطح پر ردِ عمل بھی سامنے آیا۔ رواں ہفتے امریکی حکومت نے بھی روہنگیا مہاجرین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ’ نسل کشی‘ قرار دیا تھا۔

معاہدہ طے پانے کے بعد بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے مختصراﹰ گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’ یہ پہلا قدم ہے، میانمار روہنگیا مہاجرین کو واپس قبول کرے گا، اب ہمیں کام شروع کرنا ہوگا۔‘‘

تاہم ابھی تک اس معاہدے کے تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ کب شروع ہوگا اور میانمار کتنے روہنگیا افراد کو قبول کرے گا۔

ویڈیو دیکھیے 00:45

ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا کی بنگلہ دیش آمد کا سلسلہ جاری

انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد اور تنظیموں نے تاہم روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے اس مجوزہ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ آخر روہنگیا کس طرح واپس اسی علاقے میں آباد ہوں گے، جہاں ان کے گاؤں اور گھروں کو جلا دیا گیا تھا اور وہ ایسے ملک میں کیسے محفوظ رہیں گے، جہاں مسلمان مخالف جذبات بہت زیادہ ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات